ڈائری
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے مسلم ممالک میں کہیں بھی اس قسم کا مزاج نہیں ہے ۔ ہندوستان کے مسلمان ہندوستان کو اپنے دین سے متاثر کرے، البتہ وہ خود ہندوستان کے دین سے متاثر ہو کر رہے گا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ زیادہ تر فرکی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہیں۔ وہ داعیانہ نفسیات کے تحت نہیں لکھی گئی ہیں۔ فرکی نفسیات میں تمام چیزوں کی تعبیر تسکین خویش کی بنیاد پر کی جاتی ہے، اور داعیانہ نفسیات میں تمام چیزوں کی تعبیر مخاطب کی رعایت کی بنیاد پر۔ یہی وہ فرق ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابیں فقط ان کے اپنے لئے تو کشش رکھتی ہیں، مگر غیر مسلموں کے لئے ان کتابوں میں کوئی کشش نہیں۔ ۲۱ مارچ ۱۹۸۳ ابو جعفر محمد بن جریر الطبری طبرستان میں ۲۲۴ ھ (مطابق ۸۳۹ء) میں پیدا ہوئے ۔ اور بغداد میں ۳۱۰ ھ (مطابق ۹۲۲ء) وفات پائی۔ موصوف کی دو کتابیں بہت مشہور ہیں۔ ایک ، جامع البیان فی تفسیر القرآن ، دوسرے ، تاریخ الامم والملوک۔ امام ابن جریر طبری ابتداً فقہ شافعی کے مقلد تھے۔ ان کی اپنی بھی ایک فقہ تھی جس کے پیرو ان کے والد کے نام کی نسبت سے "جریریہ" کہلائے۔ تاہم یہ فقہی مذہب زیادہ پھیل نہ سکا۔ امام احمد بن حنبل سے وہ کئی امور میں سخت اختلاف کرتے تھے۔ وہ احمد بن حنبل کو مجتہد نہیں مانتے۔ وہ ان کو صرف محدث تسلیم کرتے تھے۔ اس زمانہ میں بغداد میں امام ابن حنبل کے پیروؤں کی اکثریت ہو گئی تھی۔ یہ لوگ علامہ طبری کے سخت دشمن ہو گئے ۔ حتیٰ کہ ایک بار ایسا ہوا کہ ایک ہجوم نے ان کے مکان کو گھیر لیا اور تشدد پر آمادہ ہو گئے۔ تاہم بغداد کے صاحب الشرطہ کی مداخلت سے یہ ہنگامہ فرو ہو گیا۔ ان کے مخالفین جب تشدد کی کارروائی میں ناکام رہے تو انھوں نے علامہ ابن جریر پر کفر کا فتوٰی لگا دیا۔ ابن جریر آج اپنی بے مثال کتابوں کی وجہ سے تمام مسلمانوں کے درمیان عزت کی نظر سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader