Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

دیکھے جاتے ہیں ۔ مگر اپنی زندگی میں ان کا وہ حال ہوا تھا جس کا اوپر ذکر ہوا ۔ اکثر بڑی شخصیتوں کے ساتھ ایسا ہی کچھ پیش آیا ہے ۔ اپنے زمانہ میں وہ لوگوں کے عتاب کا شکار رہے ، اور بعد کے زمانہ میں ”اکابر“ کی فہرست میں شامل ہو کر معزز اور مقدس بن گئے۔ ۲۲ مارچ ۱۹۸۳ طرابلس یونیورسٹی کے ایک صاحب (پروفیسر مولانا) نے قرآن کی بعض آیتوں کے بارہ میں سوال کیا جن کا تعلق امور غیب سے تھا۔ اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے قرآن فہمی کے بارہ میں ایک اصولی بات کہی۔ میں نے کہا کہ انسان کے دائرہ فہم کے اعتبار سے علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کی نمائندگی سائنس کرتی ہے ۔ دوسرا وہ جس کا نمونہ ہم کو فلسفہ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ دیکھیئے ، سائنس کے لوگوں کے یہاں ذہنی انتشار نہیں پایا جاتا۔ جب کہ فلسفیوں میں شاید ہی کوئی شخص ہو جس کے یہاں ذہنی انتشار نہ پایا جاتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس نے علم کی دو قسمیں کر دی ہیں۔ قابل دریافت اور نا قابل دریافت ۔ وہ اپنی تحقیق کو صرف قابل دریافت دائرہ میں محدود رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس داں ذہنی انتشار میں مبتلا ہوئے بغیر اپنی تحقیق کو جاری رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔ اس کے برعکس فلسفی قابل دریافت اور نا قابل دریافت کے فرق کو نہیں مانتا۔ وہ دونوں دائروں میں یکساں طور پر داخل ہونا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ ساری عمر کوشش کرنے کے بعد بھی پوری دریافت نہیں کر پاتا اور حالت تشکیک میں مر جاتا ہے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو علم کے دونوں دائرہ میں کلام کرتی ہے۔ تاہم اس نے پہلی بار ایک ایسی قابل عمل حد بندی قائم کر دی ہے جو فلسفہ قائم نہیں کر سکا۔ وہ یہ ہے کہ تعمق کا طریقہ صرف ان امور میں اختیار کیا جائے جو قابل دریافت دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور وہ امور جن کا تعلق نا قابل دریافت دائرہ سے ہے ان میں مجمل ایمان پر قناعت کی جائے ۔ یہی دوسرا دائرہ ہے جس کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ ابهموا ما ابهمه الله (جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا ہے اس کو تم بھی مبہم رکھو) یعنی جتنا بتایا گیا ہے اس کو مجمل طور پر مان کر آگے بڑھ جاؤ۔ ایک حدیث میں یہی بات ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وسكت عنها رحمة لكم غير نسيان فلا تبحثوا عما نهاكم الله

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page