Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

"اب ہمارا یہ تاریخی، علمی، دینی اور ثقافتی سفر ختم ہوتا ہے۔ اور پھر ہم ایک ہزار سال پیچھے آ رہے ہیں، اور جو کچھ دیکھا ہے اس کو اس ملک میں اپنے شاندار ماضی کا ورثہ سمجھ کر سینے سے لگاتے ہیں کہ اس کی گرمی سے ہماری ملی زندگی میں حرارت پیدا ہوگی"۔ پچھلے سو سال کے اندر برصغیر ہند میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اسی ذہن کے تحت لکھا گیا ہے ۔ ہمارے تمام شعراء، خطبا اور مصنفین اسی انداز پر کلام کرتے رہے ہیں۔ گرچہ یہ بتاتا ہے کہ یہ سراسر غلط خوراک تھی جو ہمارے رہنماؤں نے موجودہ مسلمانوں کے لئے تجویز کی۔ وہ اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ " شاندار ماضی" کی کہانیاں سنانے سے صرف جھوٹا فخر پیدا ہوگا نہ کہ حقیقی جذبہ عمل۔ موجودہ زمانہ میں کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر حال کا شعور پیدا کیا جاتا۔ انہیں بتایا جاتا کہ زمانہ میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں اور ان تبدیلیوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ دوسری قوموں سے کتنا زیادہ پیچھے گئے ہیں۔ مسلمان عملاً دور جدید کی ایک پس ماندہ قوم بن چکے تھے۔ مگر " شاندار ماضی" کے قصے سنا کر فرضی طور پر ان کے اندر یہ نفسیات بنائی گئی کہ تم دوسروں سے بہت آگے ہو۔ کہنے والوں نے جو کچھ کہا در چہ یہ تھا کہ " ہم دوسروں سے آگے تھے" مگر مسلمانوں کے ذہن میں یہ بیٹھ گیا کہ " ہم دوسروں سے آگے ہیں"۔ اس قسم کی نفسیات سے صرف جھوٹا احساس برتری پیدا ہوسکتا تھا اور صرف وہی پیدا ہوا۔ اور حقائق کی موجودہ دنیا میں جھوٹے احساس برتری سے زیادہ مہلک چیز اور کوئی نہیں۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۳ ایک مسلمان شاعر (ہمدم) نے ایک اردو اخبار میں اپنا ایک " تازہ قطعہ" لکھ کر روانہ کیا۔ یہ پوسٹ کارڈ غلطی سے ہمارے یہاں آ گیا۔ میں نے اس کا پتہ صحیح کر کے دوبارہ اس کو لیٹر باکس میں ڈلوا دیا۔ مذکورہ قطعہ یہ تھا: ہم کو نہ ستائے اب کہ دو یہ زمانے سے ہم ڈرتے نہیں لوگو سر اپنا کٹانے سے دنیا سے مسلمان کو کب کوئی مٹائے گا یہ تو ہے وہ دمدم رہتی ہے گھٹانے سے اس قطعہ میں جو نفسیات نظر آ رہی ہے یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام نفسیات ہے۔ اور یہی موجودہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page