ڈائری
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ میں ان کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ عن ابن عباس ، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال يوم الفتح: لا ہجرة بعد الفتح ولكن جہاد ونية (اخرجہ الجماعة الا الموطا) حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: فتح کے بعد ہجرت نہیں ، البتہ جہاد اور نیت ہے۔ اس حدیث کے مطابق بظاہر ہجرت کا حکم صرف فتح مکہ تک تھا۔ مکہ فتح ہو جانے کے بعد اب ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا۔ مگر دوسری طرف کتب حدیث میں ایک اور روایت موجود ہے جو ان الفاظ میں آئی ہے: عن معاويۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها (رواہ احمد وابوداود والدارمی) بظاہر ان دونوں روایتوں میں تضاد ہے۔ اس کی تطبیق میں شارحین کو بڑی مشکلیں پیش آئی ہیں ، حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے دوسری روایت کی صحت سے انکار کر دیا ہے۔ مگر دونوں روایتوں میں کوئی واقعی ٹکراؤ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ احادیث میں کچھ حدیثیں وہ ہیں جو وقت یا مخاطب کی نسبت سے صورت معاملہ کی وضاحت کرتی ہیں۔ اور کچھ حدیثیں وہ ہیں جو مطلق طور پر ایک اسلامی حکم کو بیان کر رہی ہیں۔ اول الذکر نوعیت کی احادیث کو خطابی اور ثانی الذکر کو اطلاقی کہا جا سکتا ہے۔ اس تقسیم کی روشنی میں دیکھئے تو مذکورہ دونوں حدیثوں کا ٹکراؤ ختم ہو جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایک ہجرت وہ ہے جو بطور اصولی حکم کے مطلوب ہے۔ دوسری ہجرت وہ ہے جو مکہ کی ۱۳ سالہ تبلیغ کے بعد اہل ایمان پر فرض ہوئی تھی۔ مکہ کی ہجرت وقتی حالات کے اعتبار سے فرض تھی۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا اور وہاں سے شرک کا خاتمہ کر دیا گیا تو اب مکہ سے ہجرت کی ضرورت باقی نہ رہی۔ البتہ ہجرت ، ایک اصولی حکم کی حیثیت سے ، بدستور باقی ہے۔ جب بھی کسی مقام پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader