Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ حالات پیدا ہوں جو اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مکہ اور مدینہ میں پیدا ہوئے تھے تو دوبارہ ہجرت مسلمانوں کے اوپر فرض ہو جائے گی۔ اس اعتبار سے ہجرت کا حکم قیامت تک کے لئے باقی ہے۔ ۲۷ مارچ ۱۹۸۳ سورہ واقعہ میں ارشاد ہوا ہے : لا يمسه الا المطهرون (قرآن کو نہیں چھوتے مگر صرف پاک لوگ) اس کا مطلب فراد نے یہ بتایا ہے کہ قرآن کا ذاتی اثر اور اس کا فائدہ صرف وہ لوگ پاتے ہیں جو اس کے مومن ہوں (لا يجد طعمه ونفعه الا من به تفسیر ابن کثیر ، جزء الابع ، صفحه ۲۹۸) یہ اس آیت کی ایک شاذ تفسیر ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اس کو مذکورہ آیت کی تفسیر نہ مانیں ۔ تا ہم الگ سے وہ ایک بالکل صحیح بات ہے ۔ اور اس کا تعلق قرآن ہی سے نہیں ہے بلکہ ہر اس کتاب سے ہے جس میں کوئی فکر اور نظریہ پیش کیا گیا ہو۔ ایک فکری کتاب کو اگر کوئی شخص معاندانہ ذہن سے پڑھے تو وہ اس کے مطالب کو صحیح طور پر اخذ نہیں کر سکتا ۔ فکری کتاب کو سمجھنے اور اس سے حظ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی سنجیدہ ہو، اور اس سے استفادہ کے جذبے سے اس کو پڑھے ۔ یہ بات جس طرح دوسری فکری اور نظریاتی کتابوں کے لئے صحیح ہے، اسی طرح وہ قرآن کے لئے بھی صحیح ہے۔ قاضی ابو بکر بن العربی، مالکی نے مذکورہ آیت کے بارہ میں لکھا ہے کہ یہ قول صحیح ہے کہ قرآن کی لذت وہی لوگ پاسکتے ہیں جو گشت ہوں سے پاک اور تائب اور عابد ہوں۔ امام بخاری نے اس کو مختار بتایاہے (ابن العربی، احکام القرآن، جلد ۲، صفحه ۲۳۱) ۲۸ مارچ ۱۹۸۳ دار العلوم دیوبند اب عربی اور دینی علوم کی مشہور ترین درس گاہ ہے۔ اس میں ہزاروں طلبہ پڑھتے ہیں اور اس کا بجٹ ایک کروڑ روپیہ تک پہنچ گیا ہے۔ مگر آغاز میں وہ ایک معمولی مدرسے بھی کم تھا۔ ۱۵ محرم ۱۲۸۳ھ (۳۰ مئی ۱۸۶۶ء) کو دیوبند کی چھتہ مسجد میں یہ تعلیمی ادارہ شروع ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page