ڈائری
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت اس میں صرف دو آدمی تھے۔ ایک استاد اور ایک طالب علم۔ اس کے پہلے استاد کا نام ملا محمود تھا ، اور اس کا پہلا طالب علم وہ نوجوان تھا جس نے بعد کو مولانا محمود حسن (شیخ الہند) کے نام سے شہرت پائی۔ یہ استقلال کا کرشمہ ہے۔ کوئی کام اگر شروع کیا جائے اور شروع کرنے کے بعد اس کو برابر جاری رکھا جائے تو طویل مدت گزرنے کے بعد بالآخر وہ اسی طرح کامیاب ہوتا ہے جس طرح دیوبند کا تعلیمی ادارہ کامیاب ہوا۔ ۲۹ مارچ ۱۹۸۳ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : استعينوا على قضاء حوائجكم بالكتمان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی حاجتوں کو پورا کرنے میں رازداری سے مدد لو) یہ ایک نہایت اہم نصیحت ہے۔ اس کا تعلق فرد کے معاملات سے بھی ہے اور قوم کے معاملات سے بھی۔ اس دنیا میں ہمیشہ حسد اور عداوت پائی گئی ہے اور آئندہ بھی یہ چیزیں موجود رہیں گی۔ ایسی حالت میں حاسدوں اور دشمنوں کے فتنہ سے بچنے کا راز یہ ہے کہ اپنے معاملات کو مخفی رکھا جائے تاکہ انہیں ہمارے نازک معاملات کی اطلاع نہ ہوسکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات کے سفر میں ہمیشہ رازداری سے کام لیتے تھے ۔ مثال کے طور پر جس زمانہ میں آپ مکہ کی طرف مارچ کا پروگرام بنا رہے تھے تو آپ نے حضرت عائشہ اور حضرت ابو بکر تک کو اس سے پیشگی طور پر باخبر نہیں کیا۔ ۳۰ مارچ ۱۹۸۳ اس دنیا میں انسان کی معراج یہ ہے کہ وہ عجز کا تجربہ کر سکے۔ وہ خدا کی الوہیت کے مقابلہ میں اپنی عبدیت کو جان لے۔ تمام پیغمبروں اور ان کے اصحاب کو اس عجز کا تجربہ ہوا۔ اس تجربہ کی اعلیٰ صورت یہ ہے کہ قوت کی سطح پر اس کا تجربہ ہو۔ یعنی آدمی " اولوالایدی والابصار “ پیدا ہو ، وہ بظاہر قوت و طاقت کا مالک ہو۔ مگر اس ظاہری حالت کے پیچھے وہ باطنی حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ بظاہر قوت رکھتے ہوئے اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو عجز کے مقام پر بٹھائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader