ڈائری
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا احساس ہے کہ میں بہت کمزور ہوں ۔ بلکہ شاید تمام نسل انسانی میں سب سے زیادہ ضعیف انسان ہوں ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اتنا زیادہ کمزور کیوں پیدا کیا۔ خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں نہایت طاقت اور شخصیت کے لوگ پیدا کئے۔ مگر وہ اپنی طاقت اور حیثیت میں کھو گئے ۔ وہ ابو بکر وعمر جیسے نہ بن سکے جو انتہائی طاقت اور شخصیت کے مالک تھے ، اس کے باوجود انہوں نے عجز کی حقیقت کو دریافت کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ جیسے کمزور انسان کو پیدا کیا تاکہ وہ عجز کی حقیقت کا اور اک کر سکے ۔ قوت کی سطح پر عجز کا تجربہ لوگوں کے لئے مشکل ہو گیا تھا ، اس لئے ایک عاجز انسان کو پیدا کیا گیا تا کہ عجز کی سطح پر عجز کا تجربہ کرایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عجز کامل کے تجربہ کے بغیر دین کامل کی نمائندگی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ ۳۱ اپریل ۱۹۸۳ پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد جو لوگ آپ کی نبوت کا اعتراف نہ کر سکے ، ان کو قرآن نے اندھا" بتایا ہے۔ یہ اندھے کون تھے ۔ یہ کہ کے منکرین تھے جو کہ ابراہیم واسماعیل کی عظمت کو مانتے تھے۔ ان میں یہود اور عیسائی تھے جو موسیٰ اور عیسیٰ کی عظمتوں کا اقرار کر رہے تھے ۔ پھر انہیں اندھا کیوں کہا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابراہیم و اسماعیل اور موسیٰ وعیسیٰ زمانہ ماضی کے پیغمبر تھے۔ سینکڑوں سال کے تاریخی عمل کے نتیجہ میں ان کی شخصیتیں تسلیم شدہ شخصیتیں بن گئی تھیں اور ان کی عظمتیں لوگوں کے ذہنوں میں قائم ہو چکی تھیں ۔ جب کہ پیغمبر عربی لوگوں کی نظر میں ابھی صرف محمد بن عبداللہ" تھے۔ ان کی شخصیت ابھی تسلیم شدہ شخصیت نہیں بنی تھی ۔ وہ بڑے بڑے واقعات ابھی پیش نہیں آئے تھے جنھوں نے بعد کو آپ کی عظمت کو تاریخ کا ایک مسئلہ بنا دیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص غیر قائم شدہ عظمت کو نہ دیکھ سکے وہ اندھا ہے، خواہ وہ قائم شدہ عظمتوں کو دیکھنے کے معاملہ میں اپنے آپ کو کتنا ہی زیادہ بینا ثابت کر رہا ہو ۔ یکم اپریل ۱۹۸۳ علماء کی ایک تعداد کے نزدیک قرآن کو غیر مسلم کے ہاتھ میں دینا ناجائز ہے۔ اس کے بعد قرآنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader