Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے باوجود ان کے بارہ میں کسی فقیہہ کی رائے درج تھی۔ مسلم نقاب کی اس غلطی نے موجودہ زمانہ میں ایک فتنہ کی صورت اختیار کرلی ہے۔ ان مفروضہ مسائل کو مستشرقین اسلام کی تصویر بگاڑنے کے لئے کامیاب طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً اسلام نے بلوغ کو ازدواج کی ایک شرط قرار دیا ہے۔ اب کسی تفنن پسند نے ایک فقیہہ سے پوچھا کہ حضرت ، ایک شخص بوڑھا ہے یا بڑی عمر کا ہے، اس کا نکاح ایک شیر خوار بچی سے کر دیا گیا تو یہ نکاح جائز ہوگا یا نہیں۔ فقیہہ پر لازم تھا کہ وہ سائل سے پوچھتا کہ کیا ایسی صورت پیش آئی ہے، اور جب وہ کہتا کہ نہیں تو فقیہہ کہتا کہ پھر ایسا فرضی مسئلہ مت پوچھو۔ مگر فقیہہ نے ایسا نہیں کیا، بلکہ اس نے فوراً اس کا ایک جواب لکھ دیا اور یہ جواب کتابوں میں بھی شامل ہو گیا۔ اب موجودہ زمانہ کے مستشرقین یہ کر رہے ہیں کہ وہ قدیم کتابوں سے اس قسم کے جزئی واقعات و مسائل ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ دیکھو اسلامی معاشرہ کے لوگ اپنی ہوسی خواہشات کی تکمیل میں یہاں تک جلتے ہیں کہ وہ شیر خوار بچی سے نکاح کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔ ۷ جنوری ۱۹۸۴ء کعبہ کے اوپر غلاف اوڑھانے کا رواج قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کعبہ کے اوپر پہلا غلاف خود حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اوڑھایا تھا۔ اگرچہ یہ بات تاریخی معیار پر ثابت شدہ نہیں۔ قریش اپنے دور میں کعبہ کو غلاف اوڑھاتے رہے۔ فتح مکہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کا موقع نہیں آیا تھا۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے موقع تھا کہ کعبہ پرنیا غلاف ڈالیں۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ فتح مکہ کے بعد بھی آپ نے اسی غلاف کو باقی رکھا جو قریش (بفاظ دیگر مشرکین) نے کعبہ کو اوڑھایا تھا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ ایک عرب خاتون کعبہ کو خوشبو دینے کے لئے کسی خوشبو دار چیز کی دھونی دے رہی تھی۔ اس دھونی دینے کے عمل کے دوران کعبہ کے غلاف کو آگ لگ گئی اور وہ جل گیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمنی کپڑے کا ایک غلاف اس کے اوپر اوڑھایا۔ آپ کے بعد خلفاء کے درمیان اس کی سنت جاری رہی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے اسلام میں حقیقت کی اہمیت ہے نہ کہ ظواہر کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page