ڈائری
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
تبلیغ کی ایک صورت یہ ہو سکتی تھی کہ قرآن کا صرف ترجمہ چھاپا جائے اور اس کو غیر مسلموں تک پہنچایا جائے۔ مگر علاوہ وہ بھی ممکن نہیں۔ کیوں کہ ان علماء کے فتوے کے مطابق، قرآن کو متن کے بغیر چھاپنا جائز نہیں۔ اس استدلال کی بنیاد قرآن کی اس آیت پر ہے کہ : لا یمسه الا المطهرون (واقعہ) یہ استدلال صحیح نہیں۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اس کو نہیں چھوتے ہیں مگر پاک لوگ۔ گویا کہ یہ ایک خبر ہے نہ کہ حکم۔ چنانچہ اہل تفسیر کی اکثریت نے ” مطھرون “ سے فرشتوں کو مراد لیا ہے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں : قال ابن زید زعمت کفار قریش ان هذا القرآن تنزلت به الشياطين فاخبر الله تعالى انه لا يمسه الا المطهرون، كما قال تعالى روما تنزلت به الشياطين وما ينبغي لهم وما يستطيعون انهم عن السمع لمعزلون) وهذا القول قول جيد (تفسير ابن كثير، الجزء الرابع ، صفحه (۴۹۸) ابن زید نے کہا کہ کفار قریش کا گمان تھا کہ قرآن کو شیاطین اتارتے ہیں۔ اللہ تعالی نے بتایا کہ قرآن کو صرف پاک لوگ (فرشتے) چھوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس کو شیطان نہیں اتارتے اور نہ ان کے لئے سزاوارہی ہے اور نہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ وہ آسمانی باتوں کو سننے سے روک دئے گئے ہیں ۔ ابن کثیر اس کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ بہتون قول ہے۔ قتادہ تابعی کا قول ہے کہ قرآن کو اللہ کے پاس صرف پاک لوگ (فرشتے) چھوتے ہیں۔ باقی دنیا میں تو یہاں اس کو مجوسی اور نجس اور منافق بھی چھوتے ہیں (لا يمسه عند الله الا المطهرون فاما في الدنيا فانه يمسه المجوسي والنجس والمنافق ، احكام القرآن للجصاص ، جلد ۳ ، صفحه ۵۱۱) ابراہیم نخعی اپنے استاد علقمہ بن قیس (م ۶۲) کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کو جب مصحف کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ ایک نصرانی سے کہتے تھے ، اور وہ ان کے لئے مصحف لکھ دیتا تھا (نه كان اذا اراد ان يتخذ مصحفاً امر نصرانياً فنسخه ، المحلى ابن حزم، جلد ۱ ، صفحه ۸۴) اسی طرح بیان میں کہا گیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی کے لئے حیرہ کے ایک نصرانی نے ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader