Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

متن قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں۔ جو لوگ متن قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں، ان کے استدلال کی ایک بنیاد یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہنشاہ ہرقل کے نام جو مکتوب روانہ کیا تھا، اس میں قرآن کی آیت بھی درج تھی۔ یہ مکتوب نبوی صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی میں مکمل طور پر نقل ہوا ہے۔ ہندوستان کے مشہور عالم مفتی کفایت اللہ صاحب نے غیر مسلم کو ترجمہ قرآن دینا جائز بتایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ مسلمانوں کے حق میں قرآن کا حکم رکھتا ہے، اور غیر مسلم کو تبلیغ کے لئے دینا جائز ہے (کفایت المفتی، جلد اول)۔ ۲ اپریل ۱۹۸۳ عہد حاضر کے ہندو فلسفی جے کرشنامورتی (۱۹۸۳-۱۸۹۵) نے کہا کہ عقلمند لوگوں کے پاس اقتدار نہیں، اور جن کے پاس اقتدار ہے وہ عقلمند نہیں: The wise wield no authority, and those in authority are not wise. یہ قول غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ اس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ غیر عقلمند لوگ اقتدار کے مناصب پر قابض ہیں۔ مگر یہ بات صحیح نہیں۔ جو لوگ اقتدار پر قبضہ حاصل کرتے ہیں وہ دوسروں سے کچھ زیادہ ہی ہوشیار ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ اقتدار کے منصب تک پہنچ ہی نہ سکیں۔ زیادہ صحیح بات وہ ہے جو لارڈ ایکٹن (۱۹۰۲-۱۸۳۴) نے کہی۔ اس نے کہا تھا کہ اقتدار بگاڑتا ہے، اور کامل اقتدار تو بالکل بگاڑ دیتا ہے: Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely. حقیقت یہ ہے کہ ارباب اقتدار کی غلط کاری کا تعلق خود اقتدار سے ہے نہ کہ ذہنی صلاحیت سے۔ اقتدار ایک ایسا نشہ ہے جو آدمی کو بگاڑے بغیر نہیں رہتا۔ اقتدار کے باوجود بگڑنے سے صرف وہ شخص بچ سکتا ہے جو یا تو بہت زیادہ سنجیدہ ہو یا بہت زیادہ متقی۔ سنجیدہ آدمی کو حقیقت پسند بناتی ہے اور خدا کا خوف آدمی کو (Man cut to size) بنا دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page