ڈائری
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
کام دو قسم کے ہوتے ہیں : خدا کو دکھانے کے لئے، اور انسان کو دکھانے کے لئے۔ بظاہر دونوں میں صرف ایک معمولی لفظی فرق ہے۔ گر دونوں ایک دوسرے سے اتنا زیادہ مختلف ہیں کہ ایک اگر اس دنیا کا سب سے زیادہ باقیمت عمل ہے، تو دوسرا سب سے زیادہ بے قیمت عمل۔ ایک صورت یہ ہے کہ آدمی نے قرآن و حدیث میں غور کیا۔ اس کے دل میں خدا کی یاد جاگ اٹھی اور آخرت کی باز پرس کا احساس پیدا ہوا۔ اس احساس اور اس شعور کے تحت اس کے اندر عمل کی تڑپ پیدا ہوئی۔ وہ کانپتے ہوئے دل اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اس کو کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا —— یہ خدا کے لئے کرنا ہے۔ یہی وہ کام ہے جو مومن سے اس دنیا میں مطلوب ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو آخرت کی دنیا میں باقیمت قرار پائے گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ لوگوں کے اندر مقبولیت حاصل کرنے کے لئے کونسا شو کھڑا کرنا زیادہ کارآمد ہے۔ کون سے الفاظ بولے جائیں تو عوام کی بھیڑ کو اپنا ہم نوا بنایا جا سکتا ہے۔ وہ کون سا موضوع ہے جس کو لے کر اٹھیں تو اربابِ دولت فوراً ہماری طرف متوجہ ہو جائیں گے —— یہ سب انسان کے لئے یا انسان کو دکھانے والے کام ہیں۔ جو لوگ اس قسم کے کاموں میں مصروف ہوں، وہ خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہیں، خواہ وہ انسانوں کے درمیان بظاہر باعزت بنے ہوئے ہوں۔ ۴ اپریل ۱۹۸۳ قسم معاوية مرة فقطاً فاعطى شيخاً من اهل دمشق عطية لم تعبه فغضب الرجل وحلف ليضربن بها رأس معاوية - فاستدعا ء الخليفة وكشف له عن رأسه وقال : أو ف بيمينك وليس أن الشيخ بالشيخ - امیر معاویہ نے ایک بار لوگوں کو تحفے تقسیم کئے، چنانچہ انہوں نے دمشق کے ایک بزرگ کو عطیہ دیا جو ان کو پسند نہیں آیا۔ وہ شخص غصہ ہوا۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں اس کو معاویہ کے سر پر ماروں گا۔ امیر معاویہ نے ان کو بلایا اور اپنا سر کھول کر کہا کہ اپنی قسم پوری کرو۔ البتہ ایک بوڑھے کو دوسرے بوڑھے کے ساتھ نرمی کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader