ڈائری
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
امیر معاویہ اپنے وقت کی عظیم ترین سلطنت کے حکمران تھے ۔ ان کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اس آدمی کو بلائیں۔ اور اس سے کہیں کہ بادشاہ وقت کی شان میں ایسی گستاخی کرنے کی جُرأت تم کو کیسے ہوئی ۔ اس کے بعد جلا د کو حکم دیں کہ اس کی گردن مار دو ۔ مگر امیر معاویہ نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ انھوں نے مذکورہ آدمی کی "گستاخی" کو نظر انداز کرتے ہوئے حکمت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح ایک ایسا معاملہ جو قتل و خون اور مسلمانوں کے درمیان باہمی نفرت کا ذریعہ بنتا، وہ صرف ایک جملہ میں ختم ہو گیا۔ ۵ اپریل ۱۹۸۳ جینے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے دوسروں کی دنیا میں جینا۔ دوسرا ہے اپنی دنیا میں جینا۔ دوسروں کی دنیا میں جینے کا مطلب ہے تاجر بن کر جینا، عہدیدار بن کر جینا، عوامی لیڈر بن کر جینا۔ وغیرہ ۔ جینے کی اس قسم میں آدمی کو دوسروں کی مرضی کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ اس کو وہ کرنا پڑتا ہے جس کو دوسرے لوگ چاہتے ہوں۔ آدمی دوسروں سے مصالحت کرکے ہی دوسروں کے درمیان جینے کے مواقع پاسکتا ہے۔ مگر ایک زندہ انسان کے لیے جینے کی یہ صورت ذہنی عذاب سے کم نہیں۔ کیوں کہ عوام سے مصالحت کرنے کے لیے آدمی کو سلی کرنا پڑتا ہے اور سلیت کسی زندہ انسان کے لیے موت ہے۔ اپنی دنیا میں جینا ہی دراصل جینا ہے۔ مگر جینے کی یہ قسم صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جس نے خود کوئی نئی چیز در یافت کی ہو، جو اپنی ذاتی ڈسکوری کی بنیاد پر کھڑا ہو سکے۔ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے مجھے "دریافت" کی نعمت عطا فرمائی۔ خدا کے فضل سے میرا یہ حال ہے کہ اگر ساری دنیا میرا ساتھ چھوڑ دے تب بھی میرے پاس تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی چیز باقی رہے گی ۔ اور وہ میری اپنی دریافت ہے۔ اگر میری کوئی اپنی دریافت نہ ہوتی تو میں اپنی دنیا میں ہرگز نہیں جی سکتا تھا۔ اور دوسروں کی دنیا میں جینے کی صورت میں زندگی میرے لیے ایک ایسا عذاب بن جاتی جس کا تحمل میرے لیے تقریبًا ناممکن تھا۔ جارج سارٹن (۱۹۵۶ ۱۸۸۳) تاریخ سائنس کا مشہور عالم تھا۔ اس نے مسلم سائنس دانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader