Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

ظاہر ہے کہ دونوں باتیں بیک وقت صحیح نہیں ہو سکتیں ۔ اور چوں کہ دوسری روایت زیادہ قوی ہے، اس لئے یہی مانا جائے گا کہ صحیح بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ تاہم یہ واضح ہو کہ یہاں "قلم" کا لفظ اپنے معنوی مفہوم میں ہے نہ کہ محض ظاہری مفہوم میں ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد جبہ قلم کو اس کی موجودہ صورت میں پیدا کیا گیا۔ بلکہ قلم کی جو حقیقت ہے، اس کے اعتبار سے اس کی پیدائش عمل میں آئی۔ ایک روایت عبدالرزاق بن الہمام (م ۲۱۱ ھ) کی مصنف میں ان الفاظ میں آئی ہے : یا جابر اول ما خلق اللہ نور نبیک من نورہ (اے جابر ، سب سے پہلے اللہ نے تمہارے نبی کو اپنے نور سے پیدا کیا)، اس سلسلہ میں پہلی بات یہ کہ عبدالرزاق بن ہمام محدثین کے یہاں معتبر نہیں۔ وہ شیعہ ہیں اور فضائل اہل بیت کے سلسلہ میں موضوع اور جھوٹی روایتیں بے تکلف نقل کرتے ہیں۔ ان کی دس جلدوں کی کتاب میں صحیح کے ساتھ ضعیف، مرسل، منقطع، منکر اور موضوع ہر قسم کی روایتیں موجود ہیں۔ درایت کے اعتبار سے یہ روایت سخت قابل اعتراض ہے۔ اس کے مطابق اللہ کی ذات کا ایک جز علیحدہ ہو کر ذات محمدی کی صورت میں مجسم ہوا۔ یہ بالکل لغو بات ہے۔ اللہ کی ہستی ایک کامل ہستی ہے۔ ذات الہی کا ایک جز ، اگر علیحدہ ہو تو ذات الہی میں نقص آ جائے گا، اور یہ بلا شبہ ناقابل تصور ہے۔ ۸ اپریل ۱۹۸۳ اکثر مجھ پر یہ تجربہ گزرتا ہے کہ موت کی قربت کا احساس میرے اوپر اتنی شدت کے ساتھ طاری ہوتا ہے کہ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے گویا اگلے ہی لمحہ میری زندگی کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ اس وقت میں عجلت کرکے کلمہ شہادت ادا کرتا ہوں اور یہ دعا پڑھنے لگتا ہوں : رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين دعا اور کلمہ شہادت کی ادائیگی میں جلدی اس لئے کرتا ہوں کہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ادا کرنے سے پہلے میری موت آ جائے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے بخش دے، اس کی بخشش کے کسی اور چیز کا کوئی سہارا نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page