Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تختلفوا فتختلف قلوبكم اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں گے، دوسری روایت یہ ہے کہ اختلاف امتی رحمۃ (میری امت کا اختلاف رحمت ہے) اہل علم کی ایک تعداد نے دوسری روایت کو موضوع یا کم از کم غیر معتبر بتایا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی اسناد کمزور ہیں۔ نیز یہ گمان میں تضاد ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ اختلاف رحمت ہے تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ اتفاق زحمت ہے (لو كان الاختلاف رحمة لكان الاتفاق سخطا) مگر ابن حزم اور دوسرے حضرات کی یہ تنقید صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں روایتوں میں " اختلاف " دو الگ الگ معنوں میں ہے۔ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اپنے آخری معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے اور دوسری روایت میں صرف ابتدائی معنی میں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اختلاف میں اصرار کی حد تک جانے کے معنی میں ہے اور دوسری روایت میں مجرد اظہار اختلاف کے معنی میں۔ جس معاشرہ میں اظہار رائے کی آزادی ہو، اسی کے ساتھ لوگ یہ بھی جانتے ہوں کہ اختلاف کے باوجود انھیں ہر حال میں جماعت کے ساتھ متحد رہنا ہے، ایسے ماحول میں اختلاف رحمت بن جاتا ہے۔ مگر جہاں ہر آدمی اپنی رائے پر اصرار کرنے لگے، اختلاف کے بعد وہ کسی طرح متحد ہونے کے تیار نہ ہو تو ایسے ماحول میں اختلاف صرف بربادی تک پہنچنے کا سبب بنتا ہے۔ پہلے اختلاف کی ایک حد ہے۔ اور وہ حد یہ ہے کہ جب تک وہ رحمت کا باعث ہے، اس وقت تک اختلاف، اس کے بعد اختلاف نہیں۔ اس کے برعکس دوسرا اختلاف کسی حد کو نہیں جانتا۔ وہ شروع ہونے کے بعد برابر جاری رہتا ہے، خواہ اس کے بعد مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر آپس میں لڑنے لگیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء - ۱۹۷۹ء)، ایک طرف یہ دعویٰ کرتے رہے کہ پاکستان میں ان کی کوششوں سے اسلامی انقلاب آچکا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی جماعت کے ایک شخص نے ان کے بارہ میں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page