Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے ”سید مودودی کا عہد“ ایک طرف ان حضرات کا یہ دعویٰ ہے۔ دوسری طرف یہ حال ہے کہ قیام پاکستان کے بعد خود ”عہد ساز“ ابو الاعلیٰ مودودی کی زندگی میں جماعت اسلامی پاکستان نے چار بار الیکشن میں حصہ لیا اور ہر بار اس کو زبردست شکست ہوئی۔ جارج کینن نے کہا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ ایک طاقت ور ملک ایک چھوٹی ریاست کو فوجی طور پر شکست دے دے مگر ایک انقلاب کو شکست دینا سخت مشکل ہے: پاکستان میں اگر مسلم لیگ کی تحریک یا خود جماعت اسلامی کی تحریک سے اسلامی فکری انقلاب آ گیا ہوتا تو نا ممکن تھا کہ کوئی بھی ”ایوب“ یا کوئی بھی ”بھٹو“ اسلام پسندوں کو الیکشن میں شکست دے سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اسلام پسند قائدین یا تو ناوادانوں کی اس قسم سے تعلق رکھتے تھے جن کے پاس حالات کا اندازہ کرنے کے لئے خوش فہمیوں کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ہوتا یا وہ ان شاطر لیڈروں میں سے تھے جو اپنی لیڈری کے لئے سیاسی جھوٹ بولنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ ۱۱ اپریل ۱۹۸۳ء قال ملحد لاحد المومنين الست تقول لن يصيبك الا ما كتب الله عليك ـ قال بلى ۔ قال فازم بنفسك من ذروة هذا الجبل ، فاذا قدرت الله تلك السلامة تسلم ۔ فقال له ۔ يا هذا ، ان الله تعالى يختبر عباده وليس لعبد ان يختبر ربه ۔ ایک ملحد نے ایک مومن سے کہا، کیا تم یہ نہیں کہتے کہ تمہارے اوپر صرف وہ مصیبت آئے گی جو اللہ نے تمہارے اوپر لکھ دی ہو۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ ملحد نے کہا کہ پھر تم اپنے آپ کو اس پہاڑ کی چوٹی سے گرا دو۔ اگر اللہ نے تمہارے لئے بچنا مقدر کیا ہو گا تو تم بچ جاؤ گے۔ مومن نے اس سے کہا کہ اسے شخص ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے، بندہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے رب کو آزمائے۔ یہ نہایت حکیمانہ جواب ہے۔ اس قسم کا گہرا جواب دینا کسی کو کتابی علم کے ذریعہ نہیں آتا۔ یہ صلاحیت صرف اس ربانی علم سے پیدا ہوتی ہے جس کو خشیت الہیٰ کہا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page