Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا علی میاں کے والد مولانا سید عبد العلی (م ۱۹۲۳) ندوۃ العلماء کے ناظم تھے ۔ ان کی ایک عربی کتاب کا نام ہے " جنتۃ المشرق و مطلع النور المشرق " اصل کتاب غاباً ابھی تک مخطوطہ کی حالت میں ہے۔ البتہ اس کا اردو ترجمہ " ہندوستان اسلامی عہد میں" کے نام سے ۱۹۷۲ میں ندوہ سے شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے باب دہ ہندوستان کی درس گاہیں، کے تحت دہلی کے ایک قدیم مدرسہ بازار دربیہ کا ذکر ہے۔ اس کے تحت حسب ذیل سطور میں درج ہیں : " یہ مدرسہ دہلی کے بازار دربیہ میں تھا۔ اسے نواب روشن الدولہ نے محمد شاہ کے عہد میں سنہری مسجد کے قریب ۱۱۴۲ھ میں بنوایا تھا۔ یہ مغلیہ حکومت کے اخیر تک باقی تھا۔ ۱۸۵۶ء میں اسے انگریزوں نے کوتوالی بنا دیا (صفحہ ۱۶۵) یہ وسیع مدرسہ جو برطانی دور میں کوتوالی بنایا گیا تھا، اب وہ چاندنی چوک کے گوردوارہ کا ایک حصہ ہے۔ ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں نے جو مسلح تصادم یا انگریزوں کے الفاظ میں " غدر " کیا، وہ میرے نزدیک محض ایک احمقانہ فعل تھا۔ اس کے بے شمار نقصانات مسلمانوں کو پہنچے۔ انھیں میں سے ایک نسبتاً چھوٹا نقصان وہ ہے جس کی مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ ۱۳ اپریل ۱۹۸۳ ایک صاحب نے کچھ لوگوں کے اخلاق کی تعریف کی ، اور کچھ دوسرے لوگوں کو بے اخلاق بتایا۔ میں نے کہا کہ آپ کے نزدیک لوگوں کے درمیان تقسیم یہ ہے کہ کچھ لوگ با اخلاق ہیں اور کچھ لوگ بے اخلاق ۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک اصل تقسیم با اخلاق اور بے اخلاق کی نہیں، بلکہ ہوشیار مفاد پرست اور بیوقوف مفاد پرست کی ہے۔ ان دونوں کا کیس یکساں طور پر مفاد پرستی کا کیس ہے۔ مگر کچھ لوگ اُسی ذاتی مقصد کو ہوشیاری کے ساتھ حاصل کر رہے ہیں جس کو دوسرے لوگ بیوقوفی کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرا یہ تاثر تجربات کی روشنی میں بنا ہے ۔ جن حضرات کو لوگ با اخلاق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page