ڈائری
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
بتاتے ہیں ، ان کا میں نے ذاتی تجربہ کیا۔ میں نے پایا کہ وہ لوگ اپنے سلوک میں دہرا معیار اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنے لوگوں کے لئے خوش اخلاق ہیں۔ مگر جن لوگوں کو وہ اپنا نہ سمجھیں ان کے ساتھ وہ خوش اخلاق برتنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مثلاً ایک شخص ان کا استقبال کرے یا وہ ان کا مدح خواں ہو تو اس کے ساتھ ان کا سلوک نہایت عمدہ ہوتا ہے۔ مگر جو شخص ان پر تنقید کر دے یا جس سے انھیں اکرام اور اعزاز ملنے کی امید نہ ہو اس کے لئے وہ عام انسانوں کی طرح برا خلاق بن جاتے ہیں۔ یہ فرق ثابت کرتا ہے کہ ان کا اخلاق اصول کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ ذاتی مفاد کی بنیاد پر ہے۔ وہ اصول کی بنیاد پر با اخلاق ہوتے تو وہ دونوں قسم کے لوگوں کے ساتھ اخلاق برتتے۔ مگر جس شخص کا اخلاق ذاتی مفاد کے تابع ہو وہ یہی کرے گا کہ جہاں اس کو ذاتی فائدہ نظر آئے گا وہاں وہ با اخلاق بن جائے گا ، اور جہاں ذاتی فائدہ نہ ہوگا وہاں وہ بے اخلاق بنارہے گا۔ ۱۴ اپریل ۱۹۸۳ ایک صاحب نے پرجوش طور پر ایک شاعر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے قوم کو اتحاد و ترقی کا سبق دیا تھا۔ اس کے ثبوت میں انھوں نے مذکورہ شاعر کا یہ شعر پیش کیا: زردرہے پھولوں کی رنگت اڑگیا کلیوں کا روپ آڈل کراِتمام زینتِ بستاں کریں اگر یہ دعویٰ صحیح ہو اور شاعر نے واقعہ قوم کو اتحاد و ترقی کا پیغام دینا چاہا ہو، تب بھی اس کو شاعری کہا جائے گانہ کہ کوئی حقیقی پیغام۔ کوئی رقصانہ اگر رقص کی زبان میں عبادت کی تبلیغ کرے تو رَقاصہ کی نیت خواہ جو بھی ہو مگر عملاً وہ ایک رقص کا مظاہرہ ہو گا نہ کہ عبادتِ الٰہی کی تبلیغ ۔ اسی طرح اتحاد و ترقی کا جو پیغام شعر و شاعری کی زبان میں دیا جائے وہ عملاً صرف شاعری بن کر رہ جائے گا، وہ لوگوں کے درمیان اتحاد و ترقی کے پیغام کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ ابن السماک قدیم بغداد کے ایک واعظ تھے۔ ایک بار انھوں نے عباسی خلیفہ ہارون الرشید (۱۹۳۔۱۷۸ھ) کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ لا تحرق وجهك فى النار (ایسا نہ کرو کہ تمہارا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader