ڈائری
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے مگر اس کو اختیار حاصل نہیں ۔ انسان اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے۔ ایک شخص کسی کو بے عزت کرنے کے لئے اپنی زبان کھول سکتا ہے ، مگر کسی کا بے عزت ہونا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خود خدا اس کے لئے بے عزتی کا فیصلہ نہ کرے۔ ایک شخص کسی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا سکتا ہے مگر وہ اس وقت تک کسی کو قتل نہیں کر سکتا جب تک اسی شخص کے ہاتھ سے اس کی موت مقدر نہ کر دی گئی ہو۔ ایک شخص کسی کی جائداد پر قبضہ کرنے کی سازش کر سکتا ہے مگر اس کی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک خدا اپنی مصلحت کے تحت اس کے حق میں ایسا فیصلہ نہ کرے۔ ۹ جنوری ۱۹۸۳ اس زمانہ میں معاشی تجزیہ (Economic Analysis) کی ایسی تاریخ نہیں مرتب کی گئی ہیں جو زمانہ قدیم اور قرون وسطیٰ کی تحریروں میں معاشی تجزیہ کے عمل کا سراغ لگاتی ہیں۔ اور ان معاشی اصولوں کی نشاندہی کرتی ہیں جن سے اس زمانہ کے مفکرین باخبر تھے۔ اس موضوع کی ایک مشہور کتاب یہ ہے ، History of Economic Analysis by Joseph A. Schumpeter. اس کتاب کا ایک باب عظیم خلا (The Great Gap) ہے۔ اس میں اس بات کو تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی سے تیرھویں صدی عیسوی تک کا زمانہ معاشی تجزیہ کی تاریخ کے نقطہ نظر سے بالکل خالی ہے۔ حالاں کہ بعینہ یہی وہ دور ہے جس میں مسلمان علما دو مفکرین نے اس میدان میں قابل ذکر کام کئے ہیں۔ مثال کے طور پر قاضی ابو یوسف ، مسکویہ ، اور روی، ابن حزم ، غزالی ، رازی ، ابن تیمیہ اور ابن خلدون وغیرہ کی تصانیف میں واضح قسم کی معاشی بحثیں ملتی ہیں۔ بے خبری کی سب سے زیادہ مضر قسم وہ ہے جب کہ بے خبری کو مسلم سمجھ لیا جائے ۔ ۱۰ جون ۱۹۶۴ کو لکھنؤ میں پنڈت جواہر لال نہرو کے پھول دراکہہ ، دریائے گومتی میں بہائے گئے تھے۔ راکہہ ایک کلش میں رکھ کر راج بھون سے گومتی کے کنارے لائی گئی جس کے ساتھ ایک بڑا جلوس چل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader