ڈائری
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
چہرہ آگ میں جلے) یہ سن کر ہارون الرشید رونے لگا۔ ابن السماک کے یہاں ایک ذہین خادمہ تھی۔ انھوں نے ایک بار خادمے سے پوچھا کہ میرا وعظ کیسا ہوتا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ آپ کا وعظ تو بہت اچھا ہوتا ہے۔ مگر آپ ایک بات کو بار بار کہتے ہیں، اس طرح آپ کا وعظ بہت لمبا ہو جاتا ہے۔ ابن السماک نے کہا کہ میری مجلس میں خواص بھی ہوتے ہیں اور عوام بھی۔ میں بات کی تفصیل اس لئے زیادہ کرتا ہوں کہ جو عوام ہیں وہ بھی میری بات کو سمجھ جائیں۔ خادمہ نے جواب دیا: جب تک عوام سمجھیں گے اس وقت تک خواص اکتا چکے ہوں گے۔ اس معاملہ میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے لئے کسی ایک گروہ کا انتخاب کر لے۔ وہ یا تو خواص کو اپنا مخاطب بنائے یا عوام کو۔ اگر اس نے دونوں کو اپنا مخاطب بنانے کی کوشش کی، تو ایک گروہ کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش میں وہ دوسرے گروہ کے مزاج کی رعایت نہ کر سکے گا۔ ۱۶ اپریل ۱۹۸۳ احادیث کی جمع و تدوین کا کام کئی مرحلوں میں ہوا ہے۔ اس کا پہلا دور پہلی صدی ہجری کے آخر میں شروع ہوا اور دوسری صدی ہجری کے نصف اول میں ختم ہو گیا۔ بصرہ کے ربیع بن صبیح (م ۱۶۰ھ)، مکہ کے ابن جریح (م ۱۵۰ھ) اور کوفہ کے سفیان ثوری (م ۱۶۱ھ)، وغیرہ اسی پہلے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ احادیث کی جمع و تدوین کا دوسرا دور دوسری صدی ہجری کے نصف آخر میں شروع ہوا۔ اور اس کے خاتمہ تک جاری رہا۔ مدینہ کے امام مالک (م ۱۷۹) وغیرہ اسی دور ثانی سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام مالک کی موطا بہت مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ابتداً موطا میں چار ہزار سے زیادہ حدیثیں تھیں۔ مگر امام مالک مسلسل تنقیح کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ ان کے انتقال کے وقت اس میں ایک ہزار سے کچھ زیادہ حدیثیں رہ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ موطا امام مالک کے بہت سے نسخے پائے جاتے ہیں، اور وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان مختلف نسخوں کی تعداد ۲۰ سے ۳۰ تک بتائی گئی ہے۔ مذکورہ دونوں دوروں میں تدوین حدیث کا کام زیادہ تر فقہ کے زیر اثر ہوا۔ چنانچہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader