ڈائری
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
ان دونوں دوروں کی حدیث کی کتابیں فقہی ابواب وفصول پر مرتب کی گئی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا تیسرا اور تیسری صدی ہجری کی ابتدا میں ہوا۔ سب سے پہلے مسند اسد بن موسیٰ اموی (م ۱۲۱ھ)، مسند نعیم بن حماد خزاعی (م ۲۲۹ھ) وغیرہ لکھی گئیں۔ اس دور میں محدثین نے کثرت سے مسانید جمع کیں۔ ان میں مسند امام احمد بن حنبل (م ۲۴۱ھ) سب سے زیادہ جامع اور ضخیم کہی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو’’خاتمہ المسانید‘‘ لکھا ہے۔ میں ذاتی طور پر ’’مسند‘‘ والی ترتیب کو زیادہ سائنسٹفک سمجھتا ہوں، کیوں کہ اس میں حدیث اپنی اصل صورت میں قاری کے سامنے آجاتی ہے۔ اس کے برعکس فقہی ترتیب میں دو واضح کہی ہیں۔ ایک یہ کہ اکثر اپنے فقہی ڈھانچہ میں لانے کے لئے محدث حدیث کی تقطیع کر دیتا ہے۔ وہ حدیث کا ایک حصہ ایک باب میں درج کرتا ہے اور دوسرا حصہ دوسرے باب میں۔ دوسرا مسئلہ ’’ترجمہ باب‘‘ کا ہے۔ محدث بطور خود حدیث کا ایک فقہی مفہوم مقرر کر کے اس کو ایک خاص باب کے تحت درج کر دیتا ہے۔ حالانکہ میں نے ذاتی تجربہ میں بار بار پایا ہے کہ حدیث کا اصل مفہوم محدث کے ’’ترجمہ باب‘‘ سے کہیں زیادہ وسیع اور با معنی ہوتا ہے۔ ۱۷ اپریل ۱۹۸۳ء قرآن میں کہا گیا ہے کہ واسجد واقترب (العلق) یعنی سجدہ کر اور خدا سے قریب ہو جا۔ حدیث میں اس کی تشریح ان الفاظ میں ملتی ہے : اقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد (بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ اس وقت قریب ہوتا ہے جب کہ وہ سجدہ میں ہوتا ہے) صحیح مسلم اس آیت اور اس حدیث پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ سجدہ خدا اور بندہ کے درمیان مقامِ اتصال (Melting Point) ہے۔ سجدہ اظہارِ عجز کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ اور عجز ہی واحد چیز ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے خدا سے قریب ہوسکتا ہے۔ اس معاملہ کی ایک مادی تمثیل مقناطیس کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ مقناطیس کے ہر ٹکڑے میں ایک نیگیٹو سائنڈ (منفی رخ) ہوتا ہے اور ایک پازیٹو سائنڈ (مثبت رخ)۔ ایک کو نارتھ پول اور دوسرے کو ساؤتھ پول کہا جاتا ہے۔ اگر آپ مقناطیس کے دو ٹکڑوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader