Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

کولیں اور دونوں کے پازیٹیو ہائینڈ کو آمنے سامنے کریں تو وہ کبھی نہیں ملے گا۔ مگر جب آپ ایک کا پازیٹو ہائینڈ اور دوسرے کا نیگیٹو ہائینڈ آمنے سامنے کریں تو دونوں فورا جڑ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عظیم و کبیر ہے۔ کبریائی تمام تر اسی کو سزاوار ہے۔ اب انسان اگر بڑائی کے احساس کو لے ہوئے خدا کی طرف متوجہ ہو تو یہ بڑائی کو بڑائی سے ملانا ہو گا، یہ ایسا ہی ہو گا جیسے مقناطیس کے پازیٹیو ہائینڈ کو پازیٹیو ہائینڈ سے لایا جائے۔ ایسی حالت میں دونوں ایک دوسرے سے جڑ نہیں سکتے۔ اس کے برعکس جب انسان اپنے اندر سے بڑائی کے احساس کو خالی کرتا ہے اور خالص عجز کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو یہ گویا ایک مقناطیس کے پازیٹیو ہائینڈ کو دوسرے مقناطیس کے نیگیٹو ہائینڈ سے لانا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں دونوں فوراً ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ غیر ساجد کبر کا سرمایہ لے کر خدا سے ملنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی مل نہیں پاتا۔ سا ج د عجز کا سرمایہ لے کر خدا سے ملنے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فورا دونوں کے درمیان اتصال قائم ہو جاتا ہے۔ ۱۸ اپریل ۱۹۸۲ء میں نے ایک عرب عالم کا مضمون پڑھا۔ ان کی یہ بات مجھے پسند آئی کہ اختلاف برا نہیں۔ البتہ خلاف برا ہے۔ اختلاف ایک طبعی امر ہے اور وہ اسلام کے دورِ اول میں بھی موجود تھا ، مگر وہ خلاف تک نہیں پہنچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کو بنو قریظہ کی بستیوں کی طرف روانہ کیا تو تاکید فرمایا کہ تم لوگ بنو قریظہ میں پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھنا (لا يصلين احد الا فی بنی قریظہ)، صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے اس حکم کے الفاظ کو لیا اور بنو قریظہ میں پہنچ کر تاخیر کے ساتھ نماز پڑھی۔ کچھ لوگوں نے اس کو معنی پر محمول کیا اور اس کو تیز قدمی (الاسراع لبلوغ الهدف) کے معنی میں لیتے ہوئے راستہ میں نماز پڑھ لی۔ اور رسول اللہ نے دونوں کی تصدیق فرمائی۔ یہ واقعہ (اور اس طرح کے دوسرے واقعات) اس کا کھلا ہوا ثبوت تھے کہ بعض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page