ڈائری
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
امور میں تنوع ایک فطری امر ہے، اس لئے ان میں تو حدِ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگ (خاص طور پر فقہاء) اس حقیقت کو ملحوظ نہ رکھ سکے، اور امت میں بے شمار خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ صحابہ اور تابعین تک یہی صورت حال قائم رہی۔ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز اس امت میں آخری قابلِ ذکر شخص تھے جو اس راز کو جانتے تھے : قد ذکر ابن القیم في اعلام الموقعين ان سيدنا عمر وابن مسعود اختلفا في 100 مسئلة وعدّد مؤلفوا كتاب تاريخ التشريع الاسلامي ( السالير، والسبكي والبربرى) عشرين مسئلة اختلف فيها الصحابة. لم يستنكر احد هذا الخلاف. انما اعتبره الجميع امراً طبيعياً لا يقطع ودّاً ولا يفرق صفّاً. ولهذا ايده عمر بن عبد العزيز فيما يذكر الشاطبي في الاعتصام، وقال : ما احبّ ان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلّم لا يختلفون. لكنه لو كان قولاً واحداً لكان الناس في ضيق وانهم ائمة يقتدى بهم. فلو اخذ رجل بقول احدهم لكان سنّة۔ ابن قیم نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان ایک سو مسائل میں باہم اختلاف تھا۔ "تاریخ تشریع اسلامی" کے مصنفین نے ۲۰ مسائل شمار کئے ہیں جن میں صحابہ ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے تھے۔ اس اختلاف کو کسی نے بھی برا نہیں مانا۔ تمام لوگوں نے اس کو طبعی معاملہ سمجھا جس سے نہ باہمی محبت ختم ہوتی اور نہ جماعتی انتشار پیدا ہوتا۔ اسی لئے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کی تائید فرمائی ہے۔ جیسا کہ شاطبی نے لکھا : "انہوں نے کہا : مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اختلاف نہ کرتے۔ اس لئے کہ اگر صرف ایک ہی قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے۔ اور صحابہ ہی وہ رہنما لوگ ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے۔ ان کے اختلاف کی وجہ سے یہ ہے کہ آدمی ان کے جس قول کو بھی لے لے وہ سنت ہوگا۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ فرق کو اختلاف کے معنی میں لے لیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader