Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

عربی کا ایک مقولہ ہے: من تاتیٰ ادرک ماتمنیٰ (جس نے خوب غور و فکر کیا اس نے اپنی آرزو کو پالیا)، مطلب یہ ہے کہ جو شخص کوئی کام اس طرح کرے کہ اس کے لیے سوچنے سمجھنے کا حق اس نے پوری طرح ادا کر دیا ہو تو وہ ضرور اپنے مطلوبہ مقصد میں کامیاب رہے گا۔ موجودہ دنیا میں اقدام کے دو طریقے ہیں۔ ایک، عاجلانہ اقدام۔ دوسرے، منصوبہ بند اقدام۔ عاجلانہ اقدام وہ ہے جو بس وقتی جذبے کے تحت شروع کر دیا گیا ہو۔ ایسا اقدام ہمیشہ ناکامی پر ختم ہوتا ہے۔ منصوبہ بند اقدام وہ ہے جو اس طرح کیا جائے کہ اس سے پہلے آدمی نے اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر لیا ہو۔ وہ اس معاملہ میں واقف کاروں سے مشورہ کرے۔ اس طرح بخوبی طور پر سمجھ کر اور اس کے لئے ضروری تیاری کر کے اقدام کیا جائے۔ ایسا اقدام ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے خواہ اس کی کامیابی جلد ظاہر ہو یا دیر میں۔ ۲۰ اپریل ۱۹۸۳ ایک عام آدمی جب غصہ ہوتا ہے تو وہ اپنے غصہ کو شدید ترین لفظ میں ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی لغت کا آخری لفظ استعمال کرنے سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر غصہ کے وقت ایک ہندوستانی، ایک عرب اور ایک یورپین حسب ذیل الفاظ بولتا ہے: ہندستانی : حرامی نمبر ایک عرب : حرامی رقم واحد یورپین : Bastard No. one اس قسم کے تجربات بتاتے ہیں کہ ان الفاظ کا کوئی مشترک مشتی ہر آدمی کے ذہن میں موجود ہے۔ ان الفاظ کو اپنے ذہنی مشتی سے جوڑ کر آدمی سمجھتا ہے کہ وہ جس جذبہ کا اظہار کرنا چاہتا تھا اس کا اظہار اس نے کر دیا۔ اگر ایسا نہ ہو تو غصہ میں بھرا ہوا انسان اپنے اندرونی احساس کی تسکین ان الفاظ میں نہ پاسکے۔ قرآن میں علم اشیاء کی تعلیم (البقرہ ) کا جو ذکر ہے، اس کا ایک مطلب شاید یہ بھی ہو۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام چیزیں ، خواہ وہ صوری ہوں یا معنوی ، ان کی معرفت انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page