Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ذہن میں پیشگی طور پر موجود ہے۔ اسی کو غالباً قرآن میں چیزوں کے نام کہا گیا ہے۔ ان ناموں کو کوئی ایک زبان کے لفظ کے ساتھ ہمیشہ سرکٹ کرکے بولتا ہے اور کوئی دوسری زبان کے لفظ کے ساتھ۔ ۲۱ اپریل ۱۹۸۳ء ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنے مقام کے مسلمانوں کے بارہ میں شکایت کی کہ ان کی اکثریت بے نمازی ہے۔ اپنے بارہ میں انھوں نے بار بار "الحمد للہ" کہتے ہوئے بتایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہوں۔ ان کے، لہر میں اپنے نمازی ہونے پر فخر اور بڑائی کا انداز تھا اور دوسروں کے بے نمازی ہونے کا ذکر وہ اس طرح کر رہے تھے جیسے کہ وہ ان کو بالکل حقیر اور کمتر سمجھتے ہوں۔ میں خاموشی سے ان کی تقریر سنتا رہا۔ آخر میں میں نے کہا ــ سب سے زیادہ بے نمازی ہونا یہ ہے کہ آدمی کو اپنے نمازی ہونے پر فخر ہو۔ ۲۲ اپریل ۱۹۸۳ء ۱۹۷۱ء میں جب پاکستان بنا تو وہ دو حصوں میں تھا ــ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان ٹوٹ کر الگ ملک بن گیا اور اس کا نام " بنگلہ دیش" قرار پایا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد ہندوستان میں اس پر بہت سی کتابیں چھپیں۔ مثلاً : 1. Pakistan Divided 2. Partition After Partition 3. Dismemberment of Pakistan, 4. Emergence of Bagladesh اس ذیل میں ایک کتاب چھپی۔ یہ کتاب خود تو زیادہ اچھی نہ تھی۔ البتہ اس کا نام بہت با معنی تھا۔ مصنف نے اس کتاب کا نام رکھا تھا: (Pakistan cut to size) انگریزی زبان میں size کا لفظ قد، قامت کے معنی میں آتا ہے۔ اسی سے اس کے مختلف معنی بنے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے (this is about the size of it) یعنی یہ صحیح واقعہ ہے، یہ بیان واقعہ کے مطابق ہے۔ اسی سے (cut to size) کا استعمال ہے۔ یعنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page