ڈائری
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
مصنوعی اضافنہ کو گھٹا کر کسی چیز کو اس کے واقعی قامت کے بقدر کر دینا۔ پاکستان کی دوبارہ تقسیم کے لیے یہ نام (پاکستان کٹ ٹوسائز) صحیح ترین نام ہے۔ کیوں کہ یہ سراسر مصنوعی تھا کہ ایسا ملک بنایا جائے جس کا ایک حصہ مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں، اور دونوں کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ ہو۔ پاکستان کی دوبارہ تقسیم نے اس کو اس کے واقعی حجم پر پہنچا دیا۔ مومن یا ایک سچے انسان کو بتانے کے لئے یہ بہترین لفظ ہے۔ مومن یا سچا ربانی انسان (man cut to size) ہوتا ہے۔ یعنی وہ انسان جو اپنے مصنوعی اضافوں کو ختم کر کے اپنی واقعی حیثیت پر آجائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ احتساب خویش و واحد چیز ہے جو اس قسم کے سچے انسان کو وجود میں لاتا ہے۔ آدمی جب اپنا محاسب بنتا ہے تو بار بار اس کو یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ "میں نے غلطی کی" اسی احساس سے آدمی کے اندر قطع حجم کا عمل جاری ہوتا ہے۔ ہر بار جب آدمی کے اوپر احساس خطاطاری ہوتا ہے تو گویا "پیاز" کا ایک چھلکا اس کے اوپر سے اتر جاتا ہے۔ اس طرح گھٹتے گھٹتے وہ اپنی آخری حد پر آ جاتا ہے۔ اس سے پہلے اگر وہ "خدا" بنا ہوا تھا تو اب وہ خالص بندہ بن جاتا ہے۔ ۲۳ اپریل ۱۹۸۳ء " انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اخلاق وعمل کے اعتبار سے ایک پر فیکٹ (معیاری) انسان بنے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں کسی انسان کے لئے پر فیکٹ انسان بننا ممکن نہیں" میں اس سوال پر غور کر رہا تھا کہ میری زبان سے نکلا ؛ موجودہ دنیا میں کبھی کوئی شخص پر فیکٹ انسان نہیں بن سکتا۔ پر فیکٹ صرف وہ ہے جو اپنے امپر فیکٹ ہونے کو جان لے۔ ۲۳ اپریل ۱۹۸۳ء حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ : من تو نقش فقد ھلک (جس کی جانچ کی گئی وہ ہلاک ہوا)، یہ بات موجودہ زمانہ میں "پاسپورٹ" اور "کسم" کی مثال سے بخوبی سمجھ میں آتی ہے۔ پاسپورٹ کی حیثیت ایمان کی ہے ، اور کسٹم کی حیثیت آخرت کے حساب و کتاب کی۔ ہم کو ایمان تو حاصل ہے ، مگر نجات کے لئے ضروری ہے کہ آدمی حساب کے مرحلہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader