ڈائری
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیاب ہو گئے۔ گویا پاسپورٹ تو ہمارے پاس ہے۔ مگر سسٹم کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ سسٹم پر اگر خدا نہ کہہ دیا کہ تم گرین چینل سے نکل جاؤ، تب تو بچ جائیں گے۔ لیکن اگر سامان کھول کر دیکھ لیا تو اس کے بعد پھر بننے کی کوئی صورت نہیں۔ ۲۵ اپریل ۱۹۸۳ اسلام، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا فخر ہے، وہ ان کا ہدایت نامہ نہیں۔ ــــ اسی ایک فقرہ میں موجودہ مسلمانوں کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ میں ایک سوال کے بارہ میں برسوں تک سوچتا رہا ہوں۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان جس قسم کی باتوں پر اشتعال ہو کر دوسری توہوں سے لڑ جاتے ہیں، اس قسم کی باتیں مزید شدت کے ساتھ دور اول میں بار بار پیش آئیں۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مشتعل ہو کر دوسروں سے لڑنے لگیں۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ آخر کار جس بات پر میرا دل مطمئن ہوا وہ یہ تھا کہ اس فرق کا سبب دونوں کے ذہنوں کا فرق ہے۔ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب کے لئے اسلام کی حیثیت خدا کی ہدایت اور رہنمائی کی تھی ، اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اسلام قومی فخر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یہی وہ خاص فرق ہے جس نے دونوں کے عمل میں فرق پیدا کیا ہے۔ فخر کی نفسیات ہو تو اسلام آدمی کے لئے پریشیج کا عنوان بن جائے گا۔ وہ اسلام کو اس نظر سے دیکھے گا کہ دوسرے لوگ اس کی ناموس پر حملہ نہ کریں۔ اس کے برعکس ہدایت نامہ سمجھنے کی نفسیات ہو تو آدمی اسلام کو رہنمائی کی چیز سمجھے گا۔ اول الذکر حالت میں اسلام کے عدم احترام پر آدمی کے جذبات بھڑکیں گے ، اور ثانی الذکر حالت میں اسلام کی عدم اطاعت پر۔ ۲۶ اپریل ۱۹۸۳ کسی شخص کا قول ہے کہ جو لوگ تاریخ کو بھلا دیں، وہ دوبارہ اس کے اعادہ کی غلطی کرتے ہیں : Those who forget history are condemned to repeat it.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader