Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے ماضی کا تنقیدی جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ ماضی کا تنقیدی جائزہ نہ لینا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنی غلطیوں کو دہراتا رہے ، وہ کبھی اپنی غلطیوں سے باہر نہ آ سکے۔ قال زیاد بن ابی سفیان : ليس العاقل الذى اذا وقع في الامر احتال له ، ولكن العاقل يحتال للا مر حتى لا يقع فيه د زياد بن ابی سفیان نے کہا : عقلمند آدمی وہ نہیں ہے جو کسی معاملہ میں مبتلا ہو جائے تو اس کی تدبیر کرے ۔ بلکہ عقلمند آدمی وہ ہے جو معاملہ کی تدبیر کرے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہو ) ۲۸ اپریل ۱۹۸۳ تربیت کا سب سے اہم ذریعہ یہ ہے کہ آدمی واقعات میں آیات کو دیکھنے لگے ــــ یہ بات مختلف شکلوں میں پورے قرآن میں موجود ہے ، اور سورۂ آل عمران کے آخری رکوع میں نہایت واضح طور پر بتائی گئی ہے ۔ ۲۹ اپریل ۱۹۸۳ جوش بلنگ (Josh Billing) نے کہا کہ ــــ تجربہ ہماری عقل کو بڑھاتا ہے ، مگر وہ ہماری غلطیوں کو کم نہیں کرتا : Experience increases our wisdom, but doesn't reduce our follies. ۳۰ اپریل ۱۹۸۳ غالباً میر تقی میر کا شعر ہے : صبح گزری کہ شام ہونے آئی میر تو نہ جیا اور بہت دن کم رہا یہ شعر بظاہر بہت آسان ہے ، اس میں کوئی مشکل لفظ نہیں۔ مگر اس کو سمجھنے کے لئے صرف ان الفاظ کے معانی جاننا کافی نہیں جو شعر کے اندر موجود ہیں۔ اسی کے ساتھ کچھ اور باتیں جاننا بھی لازمی طور پر ضروری ہیں۔ اگر آدمی ان دوسری باتوں کو نہ جانے تو تمام تر سادہ گی کے باوجود وہ شعر کو سمجھ نہ سکے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page