ڈائری
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلی بات یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تمثیل ہے۔ یعنی اس میں سادہ طور پر صرف صبح وشام کا قصہ نہیں بیان کیا گیا ہے بلکہ صبح وشام کی مثال میں انسانی زندگی کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ دوسری بات یہ جاننا ضروری ہے کہ زندگی کو کسی اعلیٰ تر مقصد میں صرف کرنا چاہئے۔ اگر آدمی نے ایسا نہیں کیا توعمر کا مختصر حصہ بہت جلد تمام ہو جائے گا اور آدمی کے پاس افسوس کے سوا کچھ اور نہ رہے گا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک بات کو سمجھنے کے لئے کچھ اور باتوں کا جاننا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے۔ آدمی کا ذہن اگر ان مزید معلومات سے خالی ہو تو وہ کسی بات کو نہیں سمجھ سکتا، خواہ وہ کتنے ہی آسان الفاظ میں کہی گئی ہو۔ یکم مئی ۱۹۸۳ قيل لعمرو بن عبيد رحمه الله ما البلاغة قال ما بلغك الجنة وعدل بك عن النار (عمرو بن عبيد سے پوچھا گیا کہ بلاغت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ جو تم کو جنت میں پہنچائے اور جہنم سے تم کو دور کر دے) حضرت عمرو بن عبید سے ایک ادبی سوال کیا گیا تھا۔ مگر انھوں نے اس کا ایک دینی جواب دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ "بلاغت" کے ادبی مفہوم سے نا واقف تھے۔ اس سوال میں عجیب کا زور دراصل سوال پر نہیں بلکہ سائل پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ ادبی مسائل میں الجھے ہوئے ہو، حالانکہ تمہیں جنت اور جہنم کے مسائل کی فکر کرنی چاہئے۔ ۲ مئی ۱۹۸۳ سوامی ویویکا نند (۱۹۰۲ - ۱۸۶۳) غیر معمولی صلاحیت کے آدمی تھے۔ کلکتہ میں بی اے کرنے کے بعد انھیں سپاہی کی تلاش ہوئی۔ وہ را بند ر ناتھ ٹیگور سے ملے اور ان سے پوچھاکه "کیا آپ نے بھگوان کو دیکھا ہے"۔ ٹیگور نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بعد وہ دکشیشور کے مندر میں گئے اور وہاں شری رام کرشن سے ملے۔ ان سے بھی انھوں نے وہی سوال کیا۔ شری رام کرشن نے مثبت جواب دیتے ہوئے انھیں بتایا کہ " انسانوں میں خدا کو جلوہ گر دیکھ کر سب کی سیوا کرو، ہر جاندار کو بھگوان کا روپ مان کر اس کی سیوا کرناہی سچا دھرم ہے"۔ نوجوان ویویکا نند میں جو جذبہ ابھرا تھا، وہ ایک فطری جذبہ تھا۔ وہ خدائے واحد کو پانے کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader