ڈائری
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
جذبہ تھا ، گھوران کے گروہ نے ان کے جذبہ کو پھیر دیا۔ دیویکاند توحید کی تلاش میں تھے۔ گروہ نے اس کے جواب میں ان کو " ہمہ اوست " دے دیا۔ دیویکاند کی فطرت نہ دکھائی دینے والے خدا کو پانا چاہتی تھی ، گروہ نے دکھائی دینے والی چیزوں کو خدا بنا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ خدا کا مسافر خدا کی مخلوق میں اٹک کر رہ گیا۔ ۳ مئی ۱۹۸۳ء حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قید و العلم بالکتاب علم کو لکھ کر محفوظ کرو ، اس طرح کی اور بہت سی حدیثیں ہیں جو علم کے لئے کتابت کی اہمیت کو بتاتی ہیں ۔ ایسی حالت میں سوال ہوتا ہے کہ اُس حدیث کا کیا مطلب ہے جو ابو سعید خدری کے واسطے سے صحیح مسلم میں آئی ہے ، جس کے مطابق آپ نے فرمایا کہ مجھ سے نہ لکھو ، اور جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ لکھا ہو وہ اس کو مٹادے۔ اور میری بات کو بیان کرو ، اس میں کوئی ہرج نہیں ولا تكتبوا عني ومن كتب عنى غير القرآن فليمحه وحد ثواعنى ولا حرج ) اس دوسری حدیث کی تشریح میں کئی قول نقل کئے گئے ہیں۔ میرے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ یہ ممانعت مطلق نہ تھی۔ بلکہ آپ نے ایک ہی مجموعہ میں قرآن اور حدیث دونوں کو لکھنے سے منع فرمایا یا تاکہ دونوں مل نہ جائیں ، اور تاری دونوں کے ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے شبہ نہ ہو جائے وقيل انما نهى عن كتابة الحديث مع القرآن في صحيفة واحدة لئلا يختلط فيشتبه على القارئ فى صحيفة واحدة ) ۴ مئی ۱۹۸۳ء ایک صاحب سے میں نے تبلیغی جماعت کے مشن اور الرسالہ کے مشن کے فرق کو بتاتے ہوئے کہا کہ تبلیغ والے فضیلت اعمال کو بتاتے ہیں اور ہم حقیقت اعمال کو بتاتے ہیں۔ چونکہ حدیث کی زبان عربی ہوتی ہے اور عرب اقوال کی زبان بھی عربی ہوتی ہے ، اس مشابہت کی وجہ سے بہت سے عرب اقوال عام لوگوں میں اس طرح مشہور ہو گئے ہیں جیسے کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader