Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث رسول ہوں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقولہ : اِتَّقِ شَرَّ مَنْ اَحْسَنْتَ اِلَیْهِ اس کے شر سے بچو جس پر تم نے احسان کیا ہے۔ یہ مقولہ بذات خود بہت با معنی ہے ، وہ ایک حکیمانہ مقولہ ہے ، مگر وہ ایک عربی مقولہ ہے، وہ حدیث رسول نہیں ہے۔ اسی طرح اور بہت سے اقوال۔ ۶ مئی ۱۹۸۳ء امام ابو الحسن الاشعری (۹۳۵ - ۸۷۳ء) بصرہ میں پیدا ہوئے اور بغداد میں وفات پائی۔ وہ مشہور معتزلی الجبائی (م ۹۱۵ء) کے شاگرد تھے اور اسلام کی عقلی تشریح کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے اچانک ایک روز معتزلہ کے گروہ کو چھوڑ دیا اور اعتزال کی تردید اور اسلام کی نقلی تشریح کے امام بن گئے۔ امام ابو الحسن الاشعری کا یہ واقعہ عام مسلمانوں کے نزدیک ناحق کو چھوڑنے اور حق کو اختیار کرنے کا واقعہ ہے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے درمیان ان کا ایک خاص احترام پایا جاتا ہے۔ مگر اسی واقعہ کو ایک مستشرق دوسری نظر سے دیکھتا ہے۔ اس نے الاشعری کے ڈرامائی طور پر ترک تعلق کا ذکر اس طرح کیا ہے: (Dramatic renunciation) "الاشعری ابتداً عقلی حلقہ میں شامل تھے۔ مگر انہوں نے دیکھا کہ ان کو عقلی علماء کے درمیان ممتاز مقام حاصل کرنے کا موقع نہیں مل رہا ہے اور نہ بظاہر مل سکتا ہے تو انہوں نے شہرت کی خاطر رجعت پسند مکتب کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ بصرہ کی جامع مسجد میں جمعہ کے دن ہوا۔ وہ اپنے شاگردوں کو درس دیتے ہوئے اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور مجمع سے با آواز بلند مخاطب ہوتے ہوئے کہا: جو لوگ مجھے جانتے ہیں انھیں معلوم ہے کہ میں کون ہوں۔ جو لوگ نہیں جانتے وہ سُن لیں کہ میں علی بن اسماعیل الاشعری ہوں۔ میرا عقیدہ تھا کہ قرآن مخلوق ہے، انسان کی آنکھ خدا کو نہ دیکھ پائے گی، اور ہم خود اپنے افعال بد کے موجد اور مختار ہیں۔ اب میں حق کی طرف واپس آتا ہوں، ان عقائد سے توبہ کرتا ہوں اور معتزلہ کی تردید اور ان کی غلط بیانیوں کی قلعی کھولنے کا بیڑا اٹھاتا ہوں۔ الاشعری ایک ایک کر کے اپنے سابق عقیدوں سے تو بہ کرتے رہے اور ایک کے بعد ایک اسی کے ساتھ اپنے کپڑے پھاڑ کر پھینکتے رہے اور ہر بار یہ اعلان کرتے رہے کہ میں اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page