ڈائری
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
عقیدہ کو یوں ترک کرتا ہوں جیسے اس جامہ کو پھاڑ کر پھینکتا ہوں۔ سب سے پہلے انھوں نے اپنی پگڑی انار پھینکی۔ اس کے بعد جبہ اور پھر دوسرے کپڑے ۔ بصرہ کے زود اعتقاد لوگوں پر اس کا زبردست اثر ہوا۔ الاشعری کی شہرت اتنی تیزی سے پھیلی کہ بہت جلد ان کو امام وقت مان لیا گیا۔ ابن خلکان نے ان کو دین حنیف کا بہت بڑا حامی لکھا ہے ۔ مئی ۱۹۸۳ء لیبیا میں ڈکٹیٹرانہ نظام ہے۔ وہاں حکومت پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں۔ ۱۹۷۶ء میں جب پہلی بار طرابلس گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں دیواروں پر اس طرح کے فقرے لکھے ہوئے ہیں : نحن نضرب بالحديد اذا مست الثورة لیبیا میں جو شخص ناقدانہ ذہن رکھتا ہو وہ فوراً جان لیتا ہے کہ موجودہ نظام حکومت کے تحت وہ یہاں نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ ایسے تمام لیبی اپنے ملک کو چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ ان میں جو تعلیم یافتہ ڈاکٹر ، انجینئر وغیرہ تھے ، انھوں نے باہر ملازمت کر لی۔ دوسرے لوگ باہر کے ملکوں میں تجارت کرنے لگے۔ اس قسم کے لیبیوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ ان کو لیبیا میں (الکلاب الضالة گم راہ کتے) کہا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بہت ناشائستہ بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر ایسی ناشائستہ فعل میں آجکل کے تمام مسلمان مبتلا ہیں۔ وہ شخصتیں جن کو مسلمانوں نے یا ان کے کسی حلقے نے ” اکابر “ کا درجہ دے رکھا ہے، اگر کوئی شخص ان کے اوپر تنقید کرے تو اس کو اسی نوعیت کے الفاظ سے نوازا جاتا ہے، اپنے ناقدین کے حق میں کوئی شخص بھی انصاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ مئی ۱۹۸۳ء ایک عربی جریدہ میں ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا : المنكرون لعذاب القبر ونعيمه وشبهتهم والرد عليهم (قبر کے عذاب اور اس کی نعمت کے منکرین اور ان کا شبہ اور ان کی تردید) اس میں بتایا گیا تھا کہ ملاحدہ اور رز نادقہ عذاب قبر اور نعیم قبر کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے قبروں کو کھول کر دیکھا تو ان میں نہ عذاب تھا اور نہ نعمت ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی تمام حدیثیں غلط ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader