ڈائری
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
جن میں بتایا گیا ہے کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے (القبر روضة من رياض الجنة اوحفرة من حفر النار) مضمون نگار نے مختلف انداز سے اس ملحدانہ نقطہ نظر کی تردید کی ہے۔ مثلاً یہ کہ اللہ کی قدرت بہت بڑی ہے۔ وہ قادر رہے کہ ایسے واقعات کرے جن کو دیکھنے کے لئے انسان کی آنکھیں معذور ہوں۔ اور یہ کہ انسان کمزور ہے، وہ اس طرح کی چیزوں کو دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ (العبد اضعف بصرا وسمعا ان يثبت لمشاهدة عذاب القبر) میرے نزدیک یہ دونوں باتیں غیر ضروری ہیں۔ اصل یہ ہے کہ امورِ غیب کے بارہ میں اس قسم کی جو حدیثیں ہیں وہ سب تمثیلی زبان (Symbolic language) میں ہیں۔ ان میں اصل حقیقت واقعہ بیان نہیں کی گئی ہے بلکہ اصل حقیقت واقعہ کو معروف تمثیل کے روپ میں واضح کیا گیا ہے۔ ۹ مئی ۱۹۸۳ء ایک صاحب اپنا بال ہمیشہ خود کاٹتے ہیں۔ ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوئی تو اس کا بال بھی انھوں نے خود کاٹنا شروع کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں نہ اپنا سر حجام کے سامنے جھکاؤں گا اور نہ اپنی لڑکے کا سر۔ مگر جب لڑکے کی چار سال کی ہوئی تو اب اس کی تعلیم کا مسئلہ تھا۔ انھوں نے چاہا کہ اس کو انگلش اسکول میں داخل کریں۔ معیاری انگلش اسکولوں میں داخلہ کا قاعدہ ہے کہ وہ بچوں کا نٹ لیتے ہیں تو اس کی ہر چیز کو جانتے ہیں۔ بچی کے والد نے سوچا کہ اگر میں خود بال کاٹوں تو وہ اچھے نہیں ہوں گے اور اندیشہ ہے کہ صرف بال کے بے ڈھنگے پن کی وجہ سے بچی کا داخلہ نہ ہوسکے۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ ٹسٹ کے لئے بچی کو لے جانے سے پہلے اس کو شہر کے ”سیلون“ میں لے گئے اور وہاں بچی کے بال کو جدید معیار کے مطابق درست کرایا۔ آدمی کا یہ حال ہے کہ جب تک اس کا ذاتی انٹرسٹ خطرہ میں نہ پڑے وہ غیر سنجیدہ باتیں کرتا ہے، مگر ذاتی انٹرسٹ کے زد میں آتے ہی وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader