ڈائری
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
سید امیر علی (۱۹۲۸ - ۱۸۴۹) نے اپنی کتاب روحِ اسلام (The Spirit of Islam) میں کسی مستشرق کا قول نقل کیا ہے کہ ایک منحوس گھڑی میں صلیب نے غرناطہ کے میناروں پر ہلال کی جگہ لے لی: In an ill-omened hour the Cross supplanted the Crescent on the towers of Granada (p. 399). یقیناً وہ ایک منحوس گھڑی تھی جب کہ تاریخِ یورپ کا یہ واقعہ ہوا۔ مسلمانوں نے پسماندہ اسپین کو علم وفن کا مرکز بنا دیا تھا۔ مگر عیسائیوں کے مجنونانہ تعصب کی وجہ سے مسلمانوں کو اسپین سے نکلنا پڑا اور نہ صرف اسپین بلکہ سارے یورپ میں ترقی کی رفتار سیکڑوں سال پیچھے ہو گئی۔ فرانس کے محاذ پر عربوں کی ناکامی نے دنیا کی ترقی کو صدیوں کے لئے روک دیا۔ مسلمانوں کی نااتفاقی کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرینک (Franks) کے بادشاہ چارلس مارٹل (Charles Martel) نے ٹورس (Tours) کے مقام پر ۷۳۲ء میں مسلمانوں کو شکست دی۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی یورپ کی طرف پیش قدمی رک گئی۔ اسلام اسپین کے راستہ سے سائنسی ترقی کا پیغام لے کر یورپ میں داخل ہو رہا تھا۔ مگر جب فرانس کی سرحد پر مسلمانوں کی شکست کے بعد یورپ عیسائیت کے حوالے ہو گیا تو سائنسی کھوج کرنے والوں کو بھیانک رکاوٹوں سے دوچار ہونا پڑا۔ اطالوی عالم بروونو (۱۶۰۰ - ۱۵۴۸) کو فلکیات میں جدید نظریات پیش کرنے کے جرم میں زندہ جلا دیا گیا۔ سروتیس (۱۵۵۳-۱۵۱۱) اسپین کا ایک طبیعیاتی عالم تھا ، اس پر الحاد کا الزام لگا کر اس کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ انکویزیشن (The Inquisition) نے اس طرح ہزاروں لوگوں کو صرف اس جرم میں ہولناک سزائیں دیں کہ وہ علم کی دنیا میں جدید تحقیقات کر رہے ہیں۔ اسلام کے زیرِ اثر سائنس ترقی کی منزلیں طے کر رہی تھی۔ مگر عیسائیت کے زیر اثر صدیوں تک کے لئے علمی ترقی ٹھپ ہو کر رہ گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader