ڈائری
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈائری کی بہت سی باتیں جو سوال و جواب یا گفتگو کے انداز میں نہیں لکھی گئی ہیں بلکہ مضمون کے انداز میں ہیں ، وہ حقیقتہ کسی سے گفتگو کا خلاصہ ہیں جس کو مضمون کی صورت میں درج کر دیا گیا ہے۔ اس کو مکالمہ کی بدلی ہوئی شکل سمجھنا چاہئے۔ ۱۲ مئی ۱۹۸۳ء في الصحيحين عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم سُئل عن اولاد المشركين فقال : الله اعلم بما كانوا عاملين - وفي صحيح ابي حاتم ابن حبان من حديث جرير بن حازم قال : سمعت ابارجاء يقول وهو على المنبر ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يزال امر هذه الامة قواماً او مقارباً ، ما لم يتكلموا في الولدان والقدر - قال ابو حاتم : الولدان اراد به اطفال المشركين (طريق الهجرتين ، صفحه ۳۸۷) بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل شرک کی اولاد کے بارہ میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ ان کے عمل کے بارہ میں زیادہ جانتا ہے اور صحیح ابن حبان میں حضرت جریر بن حازم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابورجاء کو منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کا معاملہ درست رہے گا جب تک کہ وہ اولاد اور تقدیر کے بارہ میں کلام نہ کریں۔ ابو حاتم کہتے ہیں کہ اولاد سے مراد مشرکین کے لڑکے ہیں۔ ابن قیم الجوزیہ (۶۹۱-۷۵۱ھ) نے اپنی کتاب طریق الہجرتین میں مذکورہ روایت نقل کی ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ اطفال مشرکین کے بارہ میں علماء کے آٹھ اقوال (ثمانية مذاهب) ہیں۔ (الوقف فيهم ، انهم في النار ، انهم في الجنة ، انهم في منزلة بين

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader