ڈائری
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
ضرورى بحثوں میں مبتلا ہوگئے۔ حتى کہ جس بحث میں انہیں پڑنے سے منع کیا گیا تھا، اس میں بحث کرکے آٹھ مختلف رائیں بنا ڈالیں۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ صرف ان امور میں بحث کی جائے جو حقیقی عملی ضرورت ہو۔ جو چیز صرف ذہنی بحث کا درجہ رکھتی ہو، اس سے کامل پر ہیز کیا جائے۔ مگر جب قوموں پر زوال آتا ہے تو اس کے افراد ذہنی بحث اور عملی ضرورت کا فرق نہیں سمجھ پاتے۔ وہ ایسی بحثوں میں پڑ جاتے ہیں جن میں الجھنا وقت کی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۱۴ مئی ۱۹۸۳ ذکر کا مطلب یاد ہے۔ ذکر اللہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے اوپر عظمت وجلال کا اتنا غلبہ ہوکہ بار بار اس کی یاد آتی رہے اور مختلف شکلوں میں اس کا اظہار ہوتا رہے۔ مگر کچھ لوگوں نے ذکر کو تکرار الفاظ کے معنی میں لے لیا۔ اس کے نتیجہ میں بہت سی غلطیاں پیدا ہوگئیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ اسم ظاہر کے مقابلہ میں اسم مضمر سے ذکر کرنا (مثلاً ہو، ہو، کہنا) اس سے بھی زیادہ افضل ہے ۔ قال بعضہم ان الذکر بالاسم المفرح وهو الله، الله افضل من الذكر بالجملة المركبة كقوله سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اکبر ۔ وبالغ بعضہم في ذالك حتی قال الذکر بالاسم المضمر افضل من الذكر بالاسم الظاهر، فالذكر بقوله هو، هو افضل من الذكر بقولهم الله، الله (طريق الهجرتين ، لابن قيم ، صفحه ۳۳۹) کیسی کیسی بدعتیں ہیں جو بعد کے لوگوں نے دین میں نکالیں۔ ۱۴ مئی ۱۹۸۳ بحران (یمن) کا علاقہ خلیفہ اول ابوبکر صدیق کے زمانہ میں فتح ہوا۔ اس وقت اسلامی فوج کے سردار حضرت خالد بن ولید تھے۔ اس وقت بحران میں عیسائیوں کی بڑی تعداد آباد تھی۔ حضرت خالد نے عیسائیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا ، اس کو قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج میں نقل کیا ہے۔ اس میں یہ الفاظ بھی شامل ہیں: لا يهدم لهم بيعة ولا كنيسة ولا يمنعون من ضرب النواقيس ولا من اخراج الصلبان في يوم عيدهم دان کا کوئی عبادت خانہ اور کلیسا گرایا نہیں جائے گا ۔ اور وہ ناقوس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader