Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

۵۸۶ ق م میں بڑے لشکر کے ساتھ یروشلم میں داخل ہوا اور یہود کے مقدس شہر کو بالکل برباد کر دیا۔ ان حملوں میں اس نے بے شمار یہودیوں کو قتل کیا۔ بے شمار یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ملک (بابل) لے گیا اور یہود کے مقدس عبادت خانہ کو مسمار کر دیا۔ یہود بطور خود نبوخذ نصر کی کارروائی کو سراسر ظلم قرار دیتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ ہمارے بندے تھے جن کو ہم نے تمہاری طرف بھیجا۔ گو یا یہود کے نزدیک یہ ایک ظالمانہ فعل تھا ، مگر قرآن کے مطابق ایک خدائی آپریشن۔ ۷ مئی ۱۹۸۳ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کا فلاں مضمون پڑھا۔ مجھ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے کو مجدد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا مضمون میں ایسا لکھا ہے یا آپ کو خود ایسا محسوس ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مضمون میں تو صاف طور پر ایسا لکھا ہوا نہیں ہے، مگر مضمون کو پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا۔ میں نے کہا کہ جو بات میں نے مضمون میں لکھی ہے، اس کا جواب دینے کا ذمہ دار میں ہوں۔ آپ متعین سوال کریں تو میں اس کی وضاحت کروں گا۔ باقی جو بات میں نے نہیں لکھی ہے، آپ نے بطور خود محسوس فرمائی ہے، اس کا معاملہ اللہ کے ذمہ ہے جو عالم الغیب ہے۔ آپ قیامت کے دن اس کی بابت اللہ سے پوچھ لیجئے گا۔ ۱۸ مئی ۱۹۸۳ ایک حقیقی ویل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ جو شخص ویل کے آگے نہ جھکے، وہ خدا کے آگے نہیں جھکا۔ ایسا شخص آخرت میں اس حال میں حاضر ہوگا کہ وہاں وہ اپنا نام خدا کو نہ ماننے والوں کی فہرست میں لکھا ہوا پائے گا، خواہ دنیا میں وہ اپنا نام خدا کو ماننے والوں کی فہرست میں لکھائے ہوئے ہو۔ صبح کو فجر سے پہلے نیند کھلی۔ ابھی میں بستر پر تھا اور آنکھ بند کئے ہوئے تھا کہ اچانک خدا کا ایک کرشمہ یاد آیا اور میں حیرت میں ڈوب گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page