Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

آنکھ کا معاملہ یہ ہے کہ اگر آپ اس کو بند کر لیں تب بھی وہ نارمل حالت میں محسوس ہوتی ہے۔ اور اگر کھلا رکھیں تب بھی نارمل حالت میں ۔ دونوں ہی سے کسی حالت میں بھی کسی قسم کا بوجھ محسوس نہیں ہوتا ۔ جب کہ منہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ منہ کی نارمل حالت یہ ہے کہ اس کو بند رکھا جائے ۔ اگر آپ منہ کو کھول لیں اور اس کو دیر تک اسی حالت میں رکھیں تو سخت زحمت محسوس ہوگی اور جی چاہے گا کہ اس کو بند کر لیا جائے ۔ ایک ہی جسم میں دو اعضا کے بارے میں دو الگ الگ اصول ہونا بے حد حیرت ناک ہے ۔ یہ خدا کی منصوبہ بندی کے کمال کو بتاتا ہے ۔ مثلاً اگر اللہ تعالیٰ نے آنکھ کا اصول یہی وہی رکھا ہوتا جو منہ کا اصول ہے تو عملی طور پر ہم کو سخت دشواری پیش آتی۔ خدا کی ان گنت صفتیں ہیں ۔ انھیں میں سے ایک صفت یہ ہے کہ منصوبہ تخلیق کے تمام امکانی پہلوؤں کو وہ پیشگی طور پر سوچ سکا ۔ انسان ایک مشین یا ایک مکان بناتا ہے تو عملی تجربہ کے بعد اس پر کھلتا ہے کہ فلاں پہلو کی رعایت وہ نہ کر سکا ۔ مگر خدا نے کسی بھی تجربہ کے بغیر پیشگی طور پر تمام ممکن پہلوؤں کو اس طرح جان لیا کہ ایک بار تخلیق کر دینے کے بعد پھر اسے کبھی ترمیم اور نظر ثانی کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ ۲۰ مئی ۱۹۸۳ گھوڑا جب سڑک پر دوڑتا ہے تو پختہ زمین پر اس کی ٹاپوں کے ٹکراؤ سے چنگاریاں نکلتی ہیں ۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ دو چیزوں کے ٹکرانے سے نئی نئی چیزوں کا ظہور ہوتا ہے ۔ اگر ٹکراؤ ختم ہو جائے تو نئی چیزوں کا ظہور بھی نہ ہو سکے ۔ ۲۱ مئی ۱۹۸۳ ایک عربی کتاب میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی کا یہ واقعہ نظر سے گزرا : من الفاروق رضی اللہ عنہ ببنیاں عال ۔ فقال لمن هذا ۔ قيل لعاملك فلان ۔ فقال ابت الدراهم الا ان تخرج اعناقها ۔ ثم استدعاه فحاسبہ حضرت عمر فاروق ایک بار ایک اونچی عمارت کے پاس سے گزرے ۔ آپ نے اس کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ عمارت کس کی ہے ۔ بتایا گیا کہ آپ کے فلاں عامل کی ہے ۔ حضرت عمر نے کہا کہ درہم نمبر دار اپنی گردنیں نکال کر رہتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page