Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

بچانے سے روکے نہیں جائیں گے۔ اور نہ انھیں اپنے تہواروں کے دن صلیب نکالنے سے منع کیا جائے گا۔ اس معاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب کے معاملہ میں اسلام کا مزاج کیا ہے۔ مگر ہندوستان کے مسلمانوں کو اسلام کے اس مزاج کی کوئی خبر نہیں۔ وہ بے طاقت ہوتے ہوئے وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو طاقت کی حالت میں بھی دورِ اول کے مسلمانوں نے نہیں کیا۔ ۱۵ مئی ۱۹۸۳ ہلاکو (۱۲۶۵ - ۱۲۱۷) چنگیز خان کا پوتا تھا۔ ہلاکو نے ۱۲۵۸ء میں بغداد کو تباہ کیا اور آخری عباسی خلیفہ مستصعِم کو قتل کیا۔ اس نے اسلامی دنیا کو جتنا نقصان پہنچایا، اتنا کسی اور شخص نے کبھی نہیں پہنچایا۔ اسی خونیں واقعہ پر شیخ سعدی نے کہا تھا: آسمان را حق بود گرخوں ببارد بر زمین ہر زوال ملک مستعصم امیر المومنین اسی ہلاکو کا پرپوتا غازان خان تھا۔ وہ نہ صرف ایک ظالم ترین انسان کی نسل سے تعلق رکھتا تھا بلکہ خود اس کی تربیت بدھسٹ کی حیثیت سے ہوئی تھی۔ اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت کے اعتبار سے وہ بدھزم کا ایک فرد تھا۔ مگر یہ غازان خاں ۱۲۹۵ء میں اس حال میں تختِ سلطنت پر بیٹھا کہ وہ اسلام قبول کر چکا تھا۔ اس نے اپنی بقیہ زندگی اسلام کے پرجوش خادم کی حیثیت سے گزاری۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ظالم بھی کسی وقت دوست بن جاتے ہیں۔ اور اسی طرح تعلیم و تربیت پر دوسرے عوامل فاتح تر ثابت ہوتے ہیں۔ ۱۶ مئی ۱۹۸۳ قرآن میں یہود کے تذکرہ کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے : اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین (شام) میں خرابی کروگے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ (الاسراء ۳-۵) یہاں اپنے بندے (عباد أُلنا) سے مراد نبوخذ نصر (Nebuchadnezzar II) اور اس کی فوج ہے۔ اس نے پہلی بار، ۵۹ ق م میں۔ یہودی سلطنت پر حملہ کیا۔ دوسری بار وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page