ڈائری
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد آپ نے اس عامل کو بلایا اور اس سے حساب لیا ) حضرت عمر فاروق کا یہ قول علم و دانش کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ علم کی یہ قسم کسی درسگاہ سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ وہ علم ہے جو تقویٰ کے ذریعہ کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ ۲۲ مئی ۱۹۸۳ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بے تکان بول رہے تھے۔ ان کا کلام زیادہ تر بے جوڑ اور غیر متعلق باتوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب وہ کافی دیر تک بول چکے تو میں نے نرمی سے کہا: آدمی کو چاہئے کہ بولنا جانے، اور اگر بولنا نہ جانتا ہو تو چپ رہنا جانے۔ پھر میں نے انھیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ بولے تو بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے) من کان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت). یہی بات ایک مغربی مفکر نے اپنے الفاظ میں اس طرح کہی کہ یہ بہت بڑی بختی ہے کہ آدمی کے پاس نہ اتنی سمجھ ہو کہ وہ بات کر سکے اور نہ اتنی قوت فیصلہ ہو کہ وہ چپ رہے: It is a great misfortune neither to have enough wit to talk well nor enough judgement to be silent. Jean De La Brupere ۲۳ مئی ۱۹۸۳ ایک صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ حدیث کو ماننا نہیں چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ دیکھئے، ایک حدیث یہ بتائی جاتی ہے کہ الحرب خدعة (جنگ دھوکا ہے کیا یہ پیغمبر خدا کا قول ہو سکتا ہے۔ کیا پیغمبر لوگوں کو یہ تعلیم دے سکتا ہے کہ جنگ کرو اور جنگ میں دھوکا دو۔ اس طرح تو الیکشن کی دھاندلی (rigging) عین جائز ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ الحرب خدعة در اصل الدفاع خدعة کے معنی میں ہے۔ یہ جنگ یعنی جارحیت کا اصول نہیں ہے بلکہ جنگ یعنی بچاؤ کا اصول ہے۔ الیکشن میں تو آدمی خود سے کودتا ہے، وہ چاہے تو نہ کودے۔ مگر بچاؤ یا دفاع اس لڑائی کا نام ہے جب یک طرفہ طور پر کوئی دوسرا شخص اس کے اوپر حملہ آور ہو اور اس کو ایسے حالات میں مبتلا کر دے کہ وہ اپنے بچاؤ کی خاطر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader