ڈائری
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
لڑنے پر مجبور ہو جاتے ۔ ایسی یکطرفہ جارحیت کے مقابلے میں (خواہ وہ مسلح ہو یا غیر مسلح) اس سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے تدبیری طور پر ”خدعہ“ کا فعل کرنا ناجائز ہے۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت مکہ سے مدینہ جانا تھا۔ مگر آپ نے مکہ سے نکل کر چند دن غار ثور میں قیام فرمایا جو کہ مدینہ کے الٹے رخ پر ہے۔ اسی طرح آپ کا طریقہ تھا کہ جب کسی ہم میں مشرق کی طرف روانہ ہونے والے ہوتے تو لوگوں سے مغرب کے راستہ کی تفصیلات پوچھتے تاکہ لوگ اس مغالطہ میں رہیں کہ آپ مغرب کی طرف سفر کرنے والے ہیں۔ اسی تدبیر کو شریعت میں توریہ کہا جاتا ہے۔ ۲۳ مئی ۱۹۸۳ ایک مغربی مفکر این ایم بٹلر کا قول ہے کہ ایک بہت سنجیدہ عقیدہ جو ہر آدمی کو ماننا چاہئے، یہ ہے کہ کسی بھی چیز کو بہت زیادہ سنجیدہ طور پر نہ لیا جائے: The one serious convictions that a man should have is that nothing is to be taken too seriously. (Nicholas Murray Butler) اس میں شک نہیں کہ کچھ چیزیں حق ہیں، اور اصولاً وہ ہمیشہ حق رہیں گی ۔ اور کچھ چیزیں باطل ہیں، اور وہ ہمیشہ باطل رہیں گی۔ مگر موجودہ مقابلہ کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصولی تقاضے اور عملی تقاضے میں ٹکراؤ ہو جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر عملی ضرورت کی بنا پر آدمی کو اپنے اندر لچک پیدا کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ لچک پیدا نہ کرے تو اس کا دوسرا انجام صرف یہ ہوگا کہ وہ تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گا۔ جو آدمی عملی پہلوؤں کی رعایت نہ کرے اس کی مثال ایسی بائیسکل کی ہے جس کا ہنڈل پوری طرح کس دیا گیا ہو، اور وہ دائیں بائیں نہ گھومے۔ ایسی بائیسکل کے لئے یہی مقدر ہے کہ وہ کسی کھڈ میں جاگرے۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کمزور ہے، خدا کی سب بڑی طاقت یہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader