Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ وہ طاقت ورہے۔ انسان کا کمزور ہونا اس کی تمام دوسری حیثیتوں کو باطل کر دیتا ہے۔ اور خدا کا طاقت ور ہونا اس کو یہ مطلق حیثیت دے دیتا ہے کہ وہ ہر حال میں انسان کو مغلوب اور مقہور کر سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی عبدیت اپنی آخری شکل میں نمایاں ہو جاتی ہے۔ کسی شخص کا سفر معرفت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اس حقیقت کو نہ جان لے کہ وہ عجز کی انتہا پر ہے اور خدا قدرت کی آخری انتہا پر ہے۔ اسی ادراک کے بعد آدمی کو ایمان کا "ذائقہ" ملتا ہے، اور اسی ادراک کے بعد آدمی کے اندر وہ تمام صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو ایمانی صفات کہا جاتا ہے۔ ۲۶ مئی ۱۹۸۳ اطبا ء حدیث کے طور پر یہ جملہ نقل کرتے ہیں : العلم علان ، علم الابدان و علم الادیان (علم دو ہیں ؛ بدن کا علم اور دین کا علم)، مگر محدثین کے نزدیک یہ ایک مقولہ ہے نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں طب سے متعلق تقریباً تین سو روایتیں پائی جاتی ہیں۔ خود صحیح بخاری میں "کتاب الطب" کے نام سے ایک مستقل باب موجود ہے۔ چنانچہ طب نبوی کے موضوع پر بہت سے لوگوں نے کتا بیں تصنیف کی ہیں۔ مثلاً ابونعیم عبد اللہ اصفہانی، ابن قیم جوزی ، شمس الدین محمد بن احمد ، وغیرہ وغیرہ ۔ عربی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی اس موضوع پر کتا بیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر سائرل الگورڈ نے انگریزی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے: Medicine of the Prophet یہاں ایک سوال ہے کہ طب سے متعلق جو احادیث ہیں ، ان کی حقیقت کیا ہے۔ ابن خلدون (۸۰۸ - ۱۳۳۲ ء)، اور شاہ ولی اللہ دہلوی کا کہنا ہے کہ طبعی روایات کی شرعی حیثیت نہیں۔ یہ اس زمانہ کے حکما ء، مثلاً حارث بن کلدہ وغیرہ کے تجربے ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب عادت کے تحت بیان فرمایا۔ بحر بن عبد اللہ الوزید (مصری) کی کتاب ابن قیم الجوزیۃ : حیاتہ و آثار (مطبوعہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page