Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

(۱۹۸۰) میری نظر سے گزری۔ اس میں ابن قیم کی کتاب الطب النبوی کے تذکرہ کے تحت مصنف نے اس بات کی سخت تردید کی ہے کہ طب نبوی کی تشریعی حیثیت نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے پیٹ کے علاج کے لئے شہد تجویز کیا۔ استعمال کے بعد بتایا گیا کہ اس کو اس سے فائدہ نہیں ہوا۔ آپ نے فرمایا : صدق اللہ وکذب بطن اخيك (صفحه ۱۷۰) یعنی اللہ کا کلام سچا ہے، البتہ تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ مگر اس روایت سے زیادہ سے زیادہ شہد کا استثناء ثابت ہوتا ہے کیوں کہ قرآن میں اس کو شفاولناس کہا گیا ہے محض اس روایت کی بنیاد پر بقیہ تمام نسخوں پر استدلال نہیں کیا جاسکتا ـــــــــ حقیقت یہ ہے کہ طب نبوی عربی ہے، نہ کہ الہامی معنوں میں طب نبوی۔ ۲۷ مئی ۱۹۸۳ء غزوہ موتہ (۸ھ) میں اسلامی لشکر کے تین سردار ایک کے بعد ایک شہید ہوگئے ۔ جعفر بن ابی طالب ، زید بن حارثہ ، عبد اللہ بن ابی رواحہ۔ اس کے علاوہ بہت سے صحابہ شہید ہوئے ۔ آخر میں خالد بن ولید کو اسلامی لشکر کا سردار بنایا گیا۔ انھوں نے دیکھا کہ فریقِ ثانی کا لشکر بہت زیادہ بڑا ہے، اس کے مقابلہ میں اسلامی لشکر بہت زیادہ کم ہے ۔ ایسی حالت میں لڑائی جاری رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ مسلمان بھی ہلاک ہو جائیں۔ اگر چہ یہ لوگ نہایت بہادر تھے۔ اور تمام لوگ لڑنے کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ مگر خالد بن ولید نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اسلامی لشکر کو پیچھے ہٹالیا اور مدینہ واپس آگئے۔ مدینہ میں مسلمانوں نے ان کا استقبال فرار ( بھاگنے والے) کے لفظ سے کیا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ فرار نہیں بلکہ کرار ہیں (پیچھے ہٹنے والے نہیں بلکہ آگے بڑھنے والے ہیں) اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ۔ ایک یہ کہ اگر دشمن کی طاقت فیصلہ کن طور پر زیادہ ہو تو اس سے لڑائی چھیرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ایسی حالت پیش آئے اور اس وقت مسلمان تدبیر جنگ کے طور پر پیچھے ہٹ جائیں تو بظاہر اگر چہ یہ پیچھے ہٹنا ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ آگے بڑھنا ہے۔ کیوں کہ اس میں یہ ارادہ شامل ہے کہ پہلے مزید تیاری کی جائے ، اس کے بعد زیادہ طاقت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page