Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل کیں۔ مگر وہ کہتا ہے کہ میں سب سے زیادہ جس واقعہ سے محفوظ ہوا، وہ کامیابی کا واقعہ نہ تھا۔ یہ وہ واقعہ تھا جب آر تھر آتھے نے اس کو ہرایا: Pancho Gonzales said that the greatest tennis set in his experience was one in which Arthur Ashe defeated him. اس کا نام اسپورٹس مین اسپرٹ ہے۔ سچا اسپورٹس مین ہار جیت کو نہیں دیکھتا بلکہ کھیل کو دیکھتا ہے۔ ایک شخص اگر اچھے کھیل کا مظاہرہ کرے تو وہ اس سے اتنا زیادہ محفوظ ہوتا ہے کہ وہ بھول جاتا ہے کہ اس شخص نے خود مجھ کو شکست دے دی ہے۔ وہ اپنی ذات کے بجائے فن کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے حریف نے اگر اس کو کسی اعلیٰ فن کاری کے تحت اسے ہرایا ہے تو وہ اس فن کاری میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ اپنی ذات اس کو یاد نہیں رہتی۔ ۱۹۸۳ اَسٹی ایک مثل ہے جو اکثر زبانوں میں کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ جو لوگ شیشہ کے مکان میں رہتے ہوں، انھیں دوسروں کے اوپر پتھر نہیں پھینکنا چاہئے People who live in glass houses shouldn't throw stones. اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کسی وجہ سے کمزور پوزیشن میں ہوں انھیں اپنے طاقت ور سے جنگ نہیں چھیڑنا چاہئے۔ کیوں کہ ایسی جنگ کا نتیجہ خود ان کے اپنے خلاف بر آمد ہو گا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان تقریباً بلا استثنا یہی کر رہے ہیں۔ وہ ایک طاقت ور کے خلاف نہایت احمقانہ طور پر جنگ چھیڑ دیں گے اور اس کے بعد جب اس کا قدرتی خمیازہ بھگتنا ہوگا تو فریق ثانی کو ظالم قسوار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کی لفظی مہم شروع کر دیں گے۔ کوئی شخص یا گروہ جب دوسرے کے مقابلہ میں کمزور پوزیشن میں ہو تو عمل کا آغاز ہر گز نہ ائے نہیں کیا جائے بلکہ داخلی تیاری اور اندرونی استحکام سے کیا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس سادہ سی بات کو اب تک سمجھ نہ سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page