ڈائری
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم جون ۱۹۸۳ ایک عربی جریدہ میں ایک مضمون پڑھا۔ عنوان تھا : من اقوال الصحابہ ۔ اس میں درج تھا کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے ایک بار فرمایا ۔ وہ ایک آدمی کی تلاش میں تھے جس کو کسی مقام کا حاکم بناسکیں۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ کسی گروہ میں امیر ہو تو وہ انھیں کے ایک شخص کی طرح رہے ، اور جب وہ امیر نہ ہو تو ان کے درمیان امیر کی طرح بنا ہوا ہو : قال عمر رضی اللہ عنه وهو يبحث عن رجل يوليه عملا : اريد رجلا اذا كان فی القوم وهو اميرهم كان كبعضهم واذا الم يكن اميرا فكانه اميرهم ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آدمی کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف ہوں کہ عہدہ کے بغیر وہ لوگوں کے درمیان عزت و احترام کا درجہ حاصل کرلے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ اتنا بے نفس ہو کہ اگر اس کو عہدہ پر بٹھا دیا جائے تو اس کے اندر بڑائی کا احساس پیدا نہ ہو ، اس کے باوجود وہ لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح رہے۔ اچھے عہدیدار کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہو سکتی۔ ۲ جون ۱۹۸۳ سئل المغيرة بن شعبة عن عمر بن الخطاب رضوان الله علیه فقال : كان والله افضل من أن يُخدع واعقل من ان يخدع ۔ وال هو القائل لست بخب والخَبّ لا يخدعنی۔ مغیرہ بن شعبہ سے حضرت عمر فاروق کے بارہ میں پوچھا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم وہ اس سے بلند تھے کہ وہ کسی کو دھوکا دیں اور اس سے زیادہ دانش مند تھے کہ کوئی انھیں دھوکا دے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں دغا باز نہیں ، اور کوئی دغا باز مجھے دھوکا نہیں دے سکتا۔ دانش خدا کی عام نعمت ہے۔ خدا ہر زمانہ میں بے شمار لوگوں کو دانش اور ہوشیاری عطا فرماتا ہے۔ مگر مومن اور غیر مومن میں یہ فرق ہے کہ مومن دانش کے استعمال کی حد جانتا ہے ، جب کہ غیر مومن دانش کے استعمال کی حد نہیں جانتا۔ یہ بلاشبہ دانش کا جائز استعمال ہے کہ آدمی دوسروں کی دغا بازی سے بچے۔ مگر مومن کا خوف خدا اس بات کی ضمانت ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی دغا بازی سے اپنے آپ کو بچائے گا ، مگر خود کبھی دوسروں کو دھوکا نہیں دے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader