ڈائری
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم عرب میں قبیلہ ثقیف ایک سرکش قبیلہ تھا۔ وہ طائف کے واحد محسور شہر میں رہتا تھا۔ یہ لوگ فتح کے بعد آخری زمانہ میں ایمان لائے۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ثقیف کے لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اسلام کو چھوڑ دیں اور مرتد ہو جائیں۔ اس وقت انھوں نے اپنے ایک بزرگ شخص عثمان بن ابی العاص سے مشورہ کیا۔ انھوں نے ان سے کہا : تم لوگ عربوں میں سب سے آخر میں اسلام لانے اور ان میں سب سے پہلے اسلام کو چھوڑ دینے والے نہ بنو۔ یہ رائے ثقیف کے لئے مفید ثابت ہوئی۔ وہ اپنے ارادے سے باز رہے۔ لما همت ثقیف بالارتداد بعد وفاة النبی صلی الله علیه وسلم استشاروا عثمان بن ابی العاص وكان مطاعاً فيهم فقال لهم: لا تكونوا آخر العرب اسلاماً واولهم ارتداداً۔ فنفعهم الله برأيه۔ انسانی خصوصیات میں سے آخری چیز غیرت ہے۔ ثقیف کے اندر اگر چہ گمراہی کے جذبات پیدا ہوئے، تاہم غیرت کا احساس پھر بھی ان کے اندر زندہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جملہ ان کی اصلاح کے لئے کافی ہوگیا۔ اور جس آدمی کے اندر سے غیرت کا احساس رخصت ہو جائے، لمبی تقریر بھی ان کو تڑپانے کے لئے کافی نہیں ہو سکتی۔ ۴ جون ۱۹۸۳ زیاد بن ابی سفیان نے کہا کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو معاملہ میں پڑ جانے کے بعد اس کی تدبیر کرے عقل مند وہ ہے جو پہلے ہی تدبیر کرے تاکہ وہ معاملہ میں نہ پڑے (قال زیاد بن ابی سفیان ليس العاقل الذي وقع في الامراحتال له۔ ولكن العاقل يحتال للا مرحتی لا يقع فيه) اس " عقل " کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ مشورہ ہے۔ وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کو صاحب فہم افراد مشورہ دینے کے لئے مل جائیں۔ مشورہ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس میں کئی آدمیوں کے تجربات اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک شخص کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ وسیع تر معلومات کی روشنی میں کوئی فیصلہ لے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader