Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

آج دن میں عبدالغفور صاحب موجودہ ایم پی ، سابق چیف منسٹر بہار) کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں الرسالہ پابندی سے پڑھتا ہوں اور آپ کے یہاں کی تمام کتابیں قیمت دے کر خریدنا چاہتا ہوں۔ میرے یہاں سب کتابیں بھجوادی جائیں (ٹیلیفون 3017739) اس طرح ہر روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کا مشن خدا کے فضل سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اور وسیع پیمانہ پر لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔ 86 سال کی عمر کو پہنچ کر اب میری صحت کافی کمزور ہوگئی ہے۔ تاہم امید ہے کہ انشاء اللہ میرے بعداب یہ مشن ختم نہیں ہوگا ، بلکہ برابر جاری رہے گا۔ ۷ جنوری ۱۹۸۹ اردو زبان شاید دنیا کی واحد زبان ہے جس میں نقلی کرشمے دکھانے کا نام ادب ہوتا ہے۔ اور فرضی خیال آرائی کا نام انشا پردازی۔ اس کی ایک دلچسپ مثال پچھلے چند مہینوں کے درمیان نظر سے گزری۔ میں نے چند صفا مین پڑھے جن میں مضمون نگار نے اپنی کسی محبوب شخصیت کو ”عہد ساز شخصیت“ قرار دیا تھا۔ مثلاً : اندر اگاندھی : عہد ساز شخصیت ابو الکلام آزاد : عہد ساز شخصیت ابو الاعلیٰ مودودی : عہد ساز شخصیت ان مضمون نگاروں سے کوئی پوچھے کہ تمہاری محبوب شخصیت نے جو عہد پیدا کیا تھا وہ کہاں ہے۔ تو ساری دنیا میں کوئی ملک تو درکنار ، وہ کسی ایک شہر کا نام بھی نہ بتا سکیں گے جہاں عہد سازی کا یہ کارنامہ انجام پایا ہو ، حتیٰ کہ ان شخصیتوں کے اپنے گھر میں بھی نہیں۔ میں خدا کے فضل سے کئی زبانیں جانتا ہوں۔ مگر اس قسم کے ہوائی مضامین میں نے کسی اور زبان میں کبھی نہیں پڑھے۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جنھوں نے ”عہد ساز“ شخصیتیں تو بے شمار پیدا کر رکھی ہوں مگر خود ”عہد“ کا کہیں پتہ نہ ہو۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے زیادہ غیر حقیقت پسند گروہ اردو بولنے والوں کا گروہ ہے اور اس کی وجہ اردو زبان کی یہی انوکھی خصوصیت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page