Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا اکبر الدین قاسمی (حیدر آباد) آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ ۲۹ دسمبر ۱۹۸۸ کو حیدر آباد میں ’’پیام انسانیت‘‘ کا اجتماع تھا جس میں مولانا ابو الحسن علی ندوی نے خطاب کیا۔ اس کے بعد یکم جنوری ۱۹۸۹ کو محمد ہاشم قاسمی کی دعوت پر وہ مرکز اسلامی حمایت نگر، حیدر آباد گئے ۔ وہاں مولانا موصوف کے ساتھیوں سمیت تقریبا ۲۰ آدمی تھے۔ ان سے گفتگو کے انداز میں انھوں نے خطاب کیا اور ’’مسلمانوں کو قرآن فہمی کا مشورہ دیا‘‘۔ ۲ جنوری ۱۹۸۹ کو حیدر آباد کے اخبار سیاست میں مولانا کے اس پروگرام کی خبر مختصر طور پر شائع ہوئی۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی (عرف علی میاں)، اور ان کے سب ساتھیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مرکز اسلامی (حمایت نگر، حیدر آباد)، اسلامی مرکز دہلی کی ملکیت ہے اور محمد ہاشم قاسمی نے خیانت اور غصب کا معاملہ کر کے اس پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ اس کے باوجود ان کا محمد ہاشم قاسمی کی دعوت پر اس مرکز میں جانا بلا شبہ جرم عظیم ہے۔ مولانا علی میاں کو اقبال کا یہ تصور مسلم بہت پسند ہے کہ : ہے حقیقت جس کے دم کی احتساب کائنات ۔ وہ اپنی تقریروں میں اس کو دہراتے رہتے ہیں ۔ حیدر آباد کی تقریر میں بھی انھوں نے یہ بات کہی۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کے ’’ احتساب کائنات‘‘ کی فہرست میں حیدر آباد کے خائن اور غاصب کا احتساب شامل ہے یا نہیں۔ ۹ جنوری ۱۹۸۹ ۲۹ دسمبر ۱۹۸۸ کو میں امریکہ (انہائم، کیلیفورنیا)، کے ایک مسلم اجتماع میں شریک تھا۔ اس اجتماع کا انتظام ایک اسلامک سنٹر مسجد اور اسکول، کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ایک مقرر اسٹیج پر آئے انھوں نے سنٹر کے لئے چندہ کی اپیل کی اور نہایت پر جوش انداز میں تقریر کرنا شروع کیا۔ یہ ایک امریکی ہوستل کا ہال تھا ۔ مقرر نے مجمع سے اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کی اپیل کی ۔ وہ بار بار کہتے ’’تکبیر‘‘ مگر مجمع کی طرف سے’’ اللہ اکبر‘‘ کی چند ہلکی آوازوں کے سوا اور کچھ سنائی نہ دیتا۔ وہ بار بار حاضرین کو اکساتے رہے کہ سب مل کر بلند آواز سے نعرہ لگائیں۔ مگر انھیں کامیابی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page