آغازِ کلام
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی زبان کا نام ہندی ہو گا اور وہ صرف دیو ناگری لبی میں لکھی جائے گی۔ اس مسئلہ پر مولانا ابو الکلام نے تو کمیٹی کی رکنیت سے استعفا بھی دے دیا تھا۔ مراسلہ نگار نے جس چیز کو ہندی پر میوں کی تنگ نظری کہا ہے، وہ خود ان کی تنگ نظری ہے۔ مسلمانوں نے سب سے بڑی تنگ نظری کر کے ملک کو بٹوا یا۔ اب وہ خود اپنے عمل کے نتائج کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہی موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ۵ جنوری ۱۹۸۹ نظام الدین (دہلی) میں میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوں۔ باہر سے آواز سنائی دیتی ہے : پرانی پلاسٹک والا ، پرانی پلاسٹک والا : دہلی میں اور دوسرے ہندوستانی شہروں میں ہر روز بے شمار کباری والے "گھروں سے پلاسٹک کے پرانے سامان خریدتے ہیں ۔ یہ پرانی پلاسٹک کا خانوں میں دوبارہ پگھلائی جاتی ہے اور ان سے دوبارہ مختلف قسم کے سامان بنائے جاتے ہیں۔ یہ سامان نہ صرف مضر ہوتے ہیں بلکہ وہ بے حد کمزور بھی ہوتے ہیں۔ پچھلے ہفتہ جب کہ میں امریکہ میں تھا ، وہاں میں نے اس کے برعکس منظر دیکھا ۔ وہاں بے شمار چیزیں پلاسٹک سے بنتی ہیں۔ مگر یہ تمام چیزیں ایک بار استعمال ہو کر کوڑے میں ڈال دی جاتی ہیں۔ ہر گھر کے سامنے صبح کے وقت بڑے بڑے تھیلے نظر آتے ہیں جن میں پلاسٹک کے استعمال شدہ سامان بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ سرکاری گاڑیاں ان کو اٹھا کر لے جاتی ہیں تاکہ انہیں ضائع کر دیا جائے ۔ کتنا فرق ہے ایک ملک میں اور دوسرے ملک میں۔ ۶ جنوری ۱۹۸۹ آج رات کو ساڑھے بارہ بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اٹھایا تو آواز آئی کہ میں نیو یارک سے ابراہیم مامون بول رہا ہوں (ٹیلی فون نمبر 7064 898-718) وہ اصلا گجرات کے رہنے والے ہیں اور آجکل نیو یارک میں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنا پتہ لکھوایا اور کہا کہ انگریزی کا رسالہ ان کے نام جاری کر دیا جائے اور انگریزی کی کتابیں انھیں روانہ کر دی جائیں۔ ان کے ذریعہ وہ وہاں کے غیر مسلم صاحبان میں اسلام کی دعوت پہنچانا چاہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader