آغازِ کلام
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
کی اور پولیس کی گاڑی کو الٹنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں پولیس نے جلوس کے اوپر لاٹھی چارج کیا۔ اس قسم کی خبریں پڑھ کر مجھے بے حد دکھ ہوتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان انگلینڈ میں عزت کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اب وہ اس ملک میں ذلیل بن کر رہنے پر مجبور ہوں گے۔ اسلامی دعوت کے مواقع کی بربادی اس کے علاوہ ہے۔ بظاہر یہ کام رسول اللہ کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ لیکن رسول اللہ آج اگر زندہ ہوں تو وہ ان مسلمانوں پر لعنت بھیجیں اور ان سے اپنی برات کا اظہار کریں۔ یکم جون ۱۹۸۹ء پرانا مقولہ ہے کہ: خطائے بزرگان گرفتن خطا است۔ اس کا مطلب عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کہ بزرگ لوگ اگر غلطی کریں تو اس پر تنقید کرنا غلطی ہے۔ یعنی اگر بزرگ غلطی کریں تب بھی ان پر تنقید نہ کرو۔ اس مقولہ کا یہ مطلب صحیح نہیں۔ اس کا صحیح مطلب غالباً یہ ہے کہ بزرگ اگر کوئی غلطی کر دے تو اس کی تقلید نہ کرو۔ بزرگ کی غلطی بھی غلطی ہے۔ اس مقولہ کا ترجمہ غالباً یہ ہو گا کہ بزرگوں کی غلطی کو لینا غلطی ہے۔ ۲ جون ۱۹۸۹ء سید امین الحسن رضوی (سابق ایڈیٹر ریڈینس) نے مولانا مودودی کا ایک خط مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۶۴ء ہفت روزہ اخبار نو (۲۲ جون ۱۹۸۹ء) میں شائع کیا ہے۔ ۱۹۶۵ء میں پاکستان میں صدر کے عہدہ کے لئے الیکشن ہوا۔ اس میں ایک طرف محمد ایوب خان تھے اور دوسری طرف مس فاطمہ جناح۔ مولانا مودودی اور ان کی جماعت اسلامی نے فاطمہ جناح کی مکمل حمایت کی۔ اس پر سید امین الحسن رضوی کو اسلامی نقطہ نظر سے تعجب ہوا۔ کیوں کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی کو غلط بتایا گیا ہے۔ انھوں نے مولانا مودودی کو بطورا ستفسار ایک خط لکھا۔ مولانا مودودی نے ان لفظوں میں جواب دیا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader