آغازِ کلام
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
کے پاس کوئی طاقت ور نظریہ نہ ہو، وہ کوئی طاقت ور واقعہ بھی ظہور میں نہیں لا سکتا۔ مسٹر ایم جے اکبر کی کتاب جواہر لال نہرو کے بارہ میں چھپی ہے۔ اس کے ۴۰۹ صفحات ہیں، اور اس کا نام ہے: Nehru: The Making of India اس کتاب میں ہندوستان کی تقسیم کا تفصیلی تذکرہ ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ ہندوستان کا اتحاد کیوں اسلام کے نام پر برباد کیا گیا تھا: I needed to know why the unity of India had been destroyed in the name of Islam. یہ صحیح ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود پاکستان میں اسلام نہ آسکا۔ ایم جے اکبر کو اس پر تعجب ہوتا ہے۔ مگر مجھے اس سے بھی زیادہ تعجب ان مسلمانوں کی عقل پر ہے جنہوں نے یہ سمجھا کہ نعرہ بازی کی سیاست کے ذریعہ وہ ایک اسلامستان قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ۳۱ مئی ۱۹۸۹ سہ روزہ دعوت (دیکم جون ۱۹۸۹) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے: "۲۷ مئی ۱۹۸۹ کو لندن کے ہائیڈ پارک میں مسلمانوں نے رشدی کی کتاب شیطانی آیات کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا جو پوری دنیا میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔" اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق، ہفتوں کی تیاریوں کے باوجود مظاہرہ میں خاطر خواہ نظم و ضبط نہیں تھا۔ اور جلسہ و جلوس ایک حد تک بدظنمی کا شکار رہا۔ ایک اطلاع کے مطابق ایک مرحلہ میں ایرانی اور عراقی مظاہرین کے درمیان تصادم بھی ہو گیا۔ قومی آواز (۲۹ مئی ۱۹۸۹) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ۲۰ ہزار مسلمانوں نے لندن میں مظاہرہ کیا۔ مظاہرین ابتداڈ ہائیڈ پارک میں جمع ہوئے جہاں مقررین نے پرجوش تقریریں کیں۔ اس کے بعد وہ جلوس کی شکل میں وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کی رہائش گاہ کی طرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader